Monday, May 30, 2011

مقام بصیرت یا مقام عبرت


دو دن پہلے عنیقہ ناز صاحبہ کی تحریر ” شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں پڑھی عنوان دلچسپ تھا اس لئے ٹھٹھک گیا. دلچسپ اس لئے تھا کہ عنوان ایک طنز کے طور پر لگایا گیا تھا. ظاہر ہے عنیقہ ناز صاحبہ جیسی عقل پرست خاتون سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ اصغر لنگڑے، فہیم کمانڈو یا طارق ٹی ٹی جیسے شہدا کے علاوہ کسی اور شہید کی تعریف کریں گی.(کسی داڑھی والے، جہاد والے مسلمان شہید کی تو ہر گز نہیں). تحریر پی این اس مہران پر دہشت گردوں کے حملے سے متعلق تھی. تحریر کا آخری جملہ تو بڑا ہی کلاسک تھا اور اسی طرح سے محسوس ہوا جس طرح سے کسی ورلڈ چمپین کا ناک آوٹ پنچ یعنی :
شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں۔ مگر اسے اب رکنا چاہئیے، شہادت سے پہلے مقام بصیرت پہ۔
اس جملے کی بیساختگی کی تعریف نا کرنا ایک بڑی نا انصافی ہوگی . یہ جملہ پڑھ کر میری ہنسی نکل گئی اور میں بڑا محظوظ ہوا. ایک اچھا لکھنے والا چاہے تو اپنے قلم سے تلوار کا کام لے سکتا ہے یہ جملہ یا اس سے ملتی جلتی بات آپ نے یقیناً سنی ہو گی. مگر لکھنے والا اپنے قلم سے ناک آوٹ پنچ بھی لگا سکتا ہے یہ پہلی بار دیکھا. ابھی جملے کے تیکھے پن سے لطف لے ہی رہا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہو.
مسلمان کے ساتھ ( چاہے وہ میرا جیسا ناکارہ ہی کیوں نہ ہو ) ایک مسئلہ اسکے اندر لگے سائیکلوجیکل بیریرز ہوتے ہیں جو دین سے متعلق کسی بھی استہزا اور تمسخر سے اسے لطف اندوز نہیں ہونے دیتے.میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جملے کا وہ حصّہ جس میں کہا گیا ہے کہ مگر اسے اب رک جانا چاہیے میرے دماغ میں جیسے کسی بازگشت کی طرح گونجنے لگا. میں نے خود سے یہ سوال کیا کہ کیا واقعی جہاد اور شہدا کے قافلوں کا رک جانا ممکن ہے؟ کہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے فرمایا کہ:

میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر قیامت تک غالب رہے گی اور جہاد کرتی رہے گی۔
( صحیح مسلم جلد سوم - حدیث ٤٥٧ )

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ظلم و نا انصافی کی وجہ سے پیدا ہونے والی سفاک شورش کو جہاد اور انتقام کو ایمان سے منسوب کر دیا جائے. پروپیگینڈا میں موضوعیت ( subjectivity ) کی اہمیت ہمیشہ سے مسلم اور کار آمد رہی ہے.میں اس موضوعیت کو کھچڑی سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جس میں دال بھی ہوتی ہے اور چاول بھی مگر اس ڈش کو آپ دال چاول نہیں کہ سکتے آپکو لا محالہ اسے کھچڑی ہی کہنا پڑے گا. یہی معاملہ پاکستان کا بھی ہے جہاں اس موضوعیت کی برکات کے سبب آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ تحریک طالبان پاکستان والےفساد پھیلا رہے ہیں جہاد نہیں کر رہے یا یہ کہ مسلمان یہ کام نہیں کر سکتا وغیرہ . اس موضوعیت کی وجہ سے پاکستان میں ہونے والی تمام تباہی ،بربادی اور خونریزی کو جہاد کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے. اب آپ کچھ بھی کہہ دیں اور کیسی ہی دلیل کیوں نا لے آئیں، اگر آپ دین سے محبت رکھتے ہیں تو موضوعیت کی تیّار کی ہوئی ٹوپی آپکے سر پر چڑھادی جاتی ہے اور آپ حیران ہو کر کبھی اپنے سر کو دیکھتے ہیں اور کبھی اس ٹوپی کو .

یار لوگ بھلے سے اس بات پر خفا ہوں مگر میں تو عنیقہ ناز صاحبہ کے اس مشورے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ مقام بصیرت پر اس قافلے کو ضرور رک جانا چاہیے. اس لئے کہ یہاں کچھ ہنسی اور دل لگی کا سامان بھی ہے. ایسے ہی بصیرت افروزمقام پر آج میں رکا جب صبح میں نے روزنامہ جنگ میں قائد تحریک ، حکمت کے آفتاب، جراحت کے ماہتاب بلکہ چندے آفتاب ،چندے ماہتاب ( خبرداراگر چندے کو چندہ پڑھا گیا . مجھے معلوم ہے کہ حاسدین چندے کو رسید والا چندہ ہی پڑھیں گے کہ جس کے نا دینے پر خیریت مشکوک ہو جاتی ہے ) ، ماہر امراض جنسیہ و خبیثہ حضرت علامہ الطاف حسین لندن والے کا بصیرت افروز و بصیرت انگیز کالم پڑھا. جس میں حضرت الطاف حسین نے فن طب و جراحت پر اپنی بےمثال معلومات کے دریا بہا دیے اور قوم کو لاحق مہلک امراض کی تشخیص فرمائی ہے. اپنی تشخیص میں حکیم الامّت نے قوم کی اور خاص طور ملکی اداروں کی تشخیص کرتے ہوے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں گنگرین اور ایڈز جیسی مہلک بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں. نا صرف تشخیص فرمائی ہے بلکہ اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں ان امراض پر روشنی بھی ڈالی ہے. اس کالم کی تفصیلات بھی نہایت بصیرت افروز تھیں.انتہائی دلسوزی, دلگدازی اور خلوص سے تشخیص فرماتے ہوۓ کہ جس کا اظہار تصویر سے بھی ہو رہا ہے، حکیم الامّت نے فرمایا کہ ناسور ( gangrene ) خشک اور ناسور کی صورت میں جسم کے کسی بھی حصّے پر اثر اندازہو سکتا ہے .
حیرت کا ایک شدید جھٹکا دھیرے سے لگا. اور میں نے دل ہی دل میں اپنے میڈیکل کالج، پروفیسرز اور میڈیکل کی کتابوں کو خوب صلواتیں سنائیں جنہوں نے جان بوجھ کر طلبا کو غلط معلومات فراہم کیں اور ناسور کو fistula بتایا اور gangrene کا ترجمہ فساد نسیج یعنی بافتوں کی سڑن بتایا. اب ظاہر ہے حکیم الامّت کی بات تو غلط ہو نہیں سکتی لہٰذا مجھے اپنے ذہن میں موجود ناسور اور فساد نسیج کے معنی کو بدلنا پڑا. میں نے یہ مستحکم ارادہ کر لیا کہ میں اس "ناسوری غلطی پر آواز اٹھاؤں گا.میرا مطالبہ ہے کہ اس غلطی کو بزور طاقت درست کیا جائے. بلکہ میرا تو یہ کہنا ہے کہ آج سے ہی میڈیکل کالجز میں اس غلطی کو سدھارنے کا کام کیا جائے. ٹی وی مباحثوں میں اس غلطی کو واضح کیا جائے، طلبا کو بتایا جائے اور نصاب کو تبدیلی کے لئے بھیجا جائے اور تمام پروفیسرز حضرات کو خاص تنبیہ کر دی جائے. اور جو پروفیسرز اس غلطی کو اپنی کلاس میں دہرائیں انکو نائن زیرو یا قریبی درستگی کے مراکز میں بلوا کر انکی کلاس لی جائے.

ابھی حیرتیں تمام نہیں ہوئی تھیں کہ ایک اور حیرت کا جھٹکا مجھےاسوقت لگا جب قائد تحریک نے فرمایا کہ :لفظ ( AIDS ) ایڈز ACUTE IMMUNE DEFICIENCY SYNDROME کا مخفف ہے “. دل غم و غصّے سے بھر آیا اور غم و غصّے کی شدت میں کانوں سے دھویں کے ساتھہ ساتھہ آنسو بھی نکلنے لگے کیونکہ ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ ایڈز ACQUIRED IMMUNE DEFICIENCY SYNDROME کا مخفف ہے. اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ حکیم الامّت غلط مخفف بتائیں کیونکہ خاص طور پر مخفف کے معاملے میں حکیم الامّت ایک اتھارٹی ہیں. انکی ” تخفیف “ کی ہی وہ واحد صلاحیت ہے جس پر دوست اور دشمن یکساں طور پر انکی مہارت کے قائل ہیں. اور یہ نا ممکن ہے کہ کوئی قائد تحریک کا غدّار یا دشمن ہو اور وہ ” تخفیف “ سے بچ جائے.

قائد تحریک نے تشخیض کے بعد علاج تجویز کرتے ہوۓ فرمایا کہ ” جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قومی اداروں میں ناسور کا سبب بننے والے ہمارے جسم کا حصّہ ہیں ،گمراہ ہیں اور انہیں قائل کر کے راہ راست پر لیا جا سکتا ہے تو وہ غلط ہیں ایسے لوگ اس امر سے لاعلم ہیں کہ قومی اداروں کو مکمل تباہی سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ناسور سے متاثرہ حصّہ کو جسم سے الگ کر دیا جائے. اس وقت قومی اداروں کا ٦٠% حصّہ ناسور کے مرض کا شکار ہے. اگر ٦٠ % حصّہ کو جسم سے الگ نا کیا گیا تو باقی ماندہ ٤٠ % حصّہ بھی اس مرض کی لپیٹ میں آجائے گا 
یہ بات سن کر یار لوگ بہت ہنسے اور کہنے لگے کہ ٦٠% آرمی سے جنگ لڑنا تو دور کی بات ان کو کم سے کم نوکریوں سے ہی برخاست کر دیا گیا تو ملکی دفاع کا کیا ہوگا. کیونکہ اگر ٦٠% کو ناسور مان بھی لیا جائے تو کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ یہ حصّہ بھی ایک نظم کے تابع ہے اور احکامات کی روگردانی نہیں کرتا ؟. ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ” یار تم تو ڈاکٹر ہو تم بتاؤ کہ کیا کوئی بھی جاندار اپنے جسم کے ٦٠ % حصّہ کے بغیر جی سکتا ہے؟ میں یہ سوال سن کر گہری سوچ میں پڑ گیا تبھی مجھ پر وجدان کا لمحہ نازل ہوا اور میں چلاتا ہوا بولا ” یوریکا !!! میں نے پا لیا “ دوست نے افسوس اور رحم بھری نظروں سے دیکھا اور اور فضا میں ناک سکوڑ کر کچھ سونگھنے کی کوشش کی. جس پر مجھے غصّہ آگیا کہ عجیب کوڑھ مغز انسان ہے بجائے سوال کرنے کہ مجھے ٹن فلائٹ کا مسافر سمجھ رہا ہے. میں نے کہا ” ابے گدھے! یہ پوچھ کہ میں نے کیا پایا ہے “ اس نے ملامت بھری نظروں سے دیکھا اور چاروں انگلیوں کو موڑ کر، انگوٹھا باہر کی طرف نکال کر منہ کی طرف لے جاتے ہوۓ اشارتاً پوچھا یہ اشارہ نہایت واہیات تھا لیکن مجھے مطلب سمجھنے میں بالکل دیر نہیں لگی کیونکہ یہ ہمارے شہر کے دیسی ٹھرا پینے والوں کا مخصوص اشارہ ہے.اس اشارہ کو دیکھہ کر میرا تو فیوز ہی اڑ گیا اور قریب تھا کہ میں اسکے سر پر قریب ہی پڑا گلدان مار کر اسکے سر میں موجود نا سور یعنی اسکے بھیجے کو باہر نکال دیتا ، اسے حالت کی سنگینی کا احساس ہو گیا اور بڑی معصوم صورت بنا کر پوچھنے لگا کہ ” آپ نے کیا پایا ہے “ تب جا کر میرا غصّہ ٹھنڈا ہوا اور میں نے وضاحت کی کہ ” دیکھ بے....ایم کیو ایم کوئی مولویوں کی جماعت تو ہے نہیں. سارے لکھے لکھے ( پڑھے لکھے کا متبادل ) لوگ ہوتے ہیں.“ جس پر میرا دوست الجھی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھتا ہوا بولا ” تو ؟.... “ یہ سوال سن کر پھر میرا پارہ چڑھ گیا ” ابے تو کے بچے ..... لکھے لکھے لوگ مولویوں کی طرح نہیں سوچتے. ایم کیو ایم میں سارے لوگ عنیقہ ناز صاحبہ کی طرح ایوالوشن پر یقین رکھتے ہیں. اور ارتقا کے نظریے میں چالیس فیصد تو کیا ..کسی چیز کا نا ہونا بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے “ یہ بات سن کر دوست نے پھر مجھ پر رحم بھری نگاہ ڈالی اور سر کو اسطرح سے ہلانے لگا کہ جیسے اسے کسی بات کا یقین آگیا ہو. اور افسوس بھری نگاہ سے میری طرف ہاتھہ ہلاتے ہوۓ کمرے سے باہر چلا گیا. اسے ہاتھ ہلاتے دیکھہ کر میں نے بھی بے اختیاری طور پر ہاتھہ ہلادیا مگر جب اسے کمرے سے باہر جاتا دیکھا تو یکا یک توہین کا احساس ہوا تب میں نے ہاتھ کی ہتھیلی کو اپنے چہرے کی طرف موڑا اور سوائے درمیانی انگلی کے باقی سب انگلیوں کو انگوٹھے سمیت ہتھیلی میں اندر کی جانب بند کر دیا. ( شدید غصّہ کی حالت میں بعض اوقات جب میرا بس نہیں چلتا تو میں اس اشارے سے اپنا غصّہ نکال لیتا ہوں )
کل رات سونے سے پہلے ایک مباحثہ دیکھہ رہا تھا جس میں دورہ ہلیری کلنٹن اور ان سے منسوب مطالبات پر ایک ٹی وی چینل پر بڑے زور و شور سے بحث چل رہی تھی.بحث کیا تھی اپنی قوم کی ذلت ، مسکنت اور بے بضاعتی کا نوحہ لگ رہی تھی . کہ کس طرح ایک دنیا کی دسویں بڑی آبادی والا ملک ، جہاں قدرتی وسائل کی بہتات ہے ، جہاں کے لوگ جفاکش اور جان دینے والے لوگ ہیں ، جو کہ ١٠٠ کے قریب جوہری ہتھیاروں کا مالک ہےاور نیوکلیر ٹکنالوجی پر دسترس رکھتا ہے ، دنیا کی بہترین فوج اسکے پاس ہے ، جہاں بہترین آلات حرب بنتے ہیں کس طرح اپنی بقا کے لئے گڑگڑا رہا ہے . اس میں اتنی بھی ہمّت نہیں جتنی ہمّت ایک بھوکے ننگے شمالی کوریا میں ہے. وینزویلا ، کیوبا یا ایران جیسے چھوٹے اور کمزور ملک بھی بڑی ہمّت دکھاتے ہیں.تب اچانک عنیقہ ناز صاحبہ کا وہی جملہ میرے ذہن میں گونجنے لگا اور میں یہ سوچ کر ہنسنے لگا کہ مقام بصیرت سے پہلے بھی ایک مقام آتا ہے جسے مقام عبرت کہتے ہیں. کاش یہ قوم اس مقام پر ہی رک جائے.

Monday, May 16, 2011

جناب! یہ حب علی نہیں ، بغض معاویہ ہے

ذیل میں چند مغربی اور غیر مسلم مستشرقین کےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اقوال و خیالات نقل کے گئے ہیں. پہلے آپ یہ اقوال پڑھیے پھر اس پوسٹ کی غرض و غایت کی طرف آئیں گے

مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میں تمام ممالک کے پڑھے لکھے اور دانشمند لوگوں کو جمع سکوں گا اور قرآن کے بتائے ہوے اصولوں کے مطابق ایک ہمہ جہت عالمی نظام حکومت قائم کرلوں گا کہ جو سچائی پر مبنی ہوگا اور انسان کو حقیقی مسرت دے سکے گا.
(نپولین بونا پارٹ – “بوناپارٹ ایٹ اسلام “ ،پیرس -١٩١٤ )


میرا اس پر یقین پہلے سے بڑھ چکا ہے کہ یہ تلوار نہیں تھی جس کے ذريعے اسلام نے اپنا مقام حاصل کیا بلکہ ایک غیر لچکدار سادگی ، پیغمبر اسلام کی نفس کشی ، اپنے وعدوں کا احترام، اپنے دوستوں اور ماننے والوں کے لیے انتہائی درجہ کی وابستگی ، انکی بہادری اور بے خوفی اور اپنے خدا اور اپنے مشن پر غیر متزلزل اور مطلق ایمان نے انھیں کامیابیاں دلائیں اور اسی سے انہوں نے ہر مشکل پر قابو پایا .
( گاندھی : ینگ انڈیا -١٩٢٤ )


اگر مقصد کی عظمت ، وسائل کی قلت اور حیرت انگیز نتائج کسی انسان کی غیر معموليت کا معیار ہوں تو کون ہے جو جدید انسانی تاریخ میں محمد کا مقابلہ کر سکے؟. زیادہ مشہور لوگوں نے ہتھیار بنائے ، قوانین بنائے اور سلطنتیں تخلیق کیں اور کچھ پایا تو یہ کہ انکی مادی طاقت انکی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی. اس شخص نے افواج ، قوانین ، سلطنتوں ، عوام اور خواص کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ دنیا میں رہنے والی ایک تہائی آبادی کے کروڑوں انسان ان سے متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکے. اور اس بھی زیادہ اس شخص نے مذہبی رسومات کو ، نام نہاد خداؤں کو ، ادیان کو ، خیالات و نظریات کو ، ارواح اور عقائد کو متاثر کیا . جسکا مقصد کبھی بھی بادشاہت نہیں رہا جو کہ صرف ایک عظیم الشان مقصد سے وابستہ رہا کامیابی اور تحمل کے ساتھہ .  اسکی بے انتہا عبادات اور اپنے رب سے مکاشفات ، اسکی موت اور بعد از مرگ اسکی کامیابی اسکی وہ خوبیاں ہیں جو کسی مکر و فریب کی بجائے ایمان کی اس بلند ترین حالت کو ثابت کرتی ہے جو قوت دیتی ہے بنیادی عقیدے کو بحال کرنے کی. یہ بنیادی عقیدہ دو اجزا پر مشتمل ہے ایک جز تمام خداؤں کا انکار کرتا ہے تو دوسرا جز بتاتا ہے خدا کیا ہے. ایک جز تلوار کے زور پر جھوٹے خداؤں کو دور کرتا ہے تو دوسرا جز تبلیغ کے زور پر اصل خدا سے تعارف کراتا ہے.
محمد کیا نہیں تھے ؟ ایک فلاسفر ، خطیب ، رسول ، قانون ساز ، جنگجو ، نظریات کو فتح کرنے والے ، ایک عقلی عقیدہ کو بحال کرنے والے ، ٢٠ سرحدوں والی سلطنتوں  اور ایک روحانی سلطنت    کے خالق…انسانی عظمت کے کسی بھی معیار کو لے لیجئے ، ہم صرف ایک سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی محمد سے عظیم شخص آیا ہے ؟
(لامارٹیں – “تاریخ ترکی” ١٨٥٤ – جلد دوئم صفحہ ٢٧٦-٢٧٧ )


میرا یقین ہے کہ اگر محمد جیسے شخص کو جدید دنیا کی مطلق العنان حکومت سونپ دی جائے تو وہ اس دنیا کے مسائل اس طرح سے حل کرے گا کہ دنیا حقیقی مسرتوں اور راحتوں سے بھر جائے گی. میں نے انھیں پڑھا ہے وہ کسی بھی طرح کے مکر و فریب سے کوسوں دور ہیں انہیں بجا طور پر انسانیت کا نجات دہندہ کہا جاسکتا ہے. میں نے پیشینگوئی کی تھی کہ محمد کا عقیدہ یورپ کے لئے آنے والے کل میں اتنا ہی قابل قبول ہوگا کہ جتنا آج قابل قبول بننے لگا ہے.
( جارج برنارڈ شا – “حقیقی اسلام ” ١٩٣٦ – جلد ٨ )


یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آدمی خالی ہاتھہ جنگ و جدل میں مشغول قبائل اور بدوؤں کو اس طرح سے آپس میں جوڑ لے کہ وہ ٢٠ سال کے مختصر عرصہ میں ایک انتہائی طاقتور اور مہذب قوم بن جائیں ؟
جھوٹ اور تہمتیں جو مغربی اقوام نے اس شخص پربڑے جوش و خروش سے لگائی ہیں خود ہمارے لئے شرمندگی کا باعٽ ہیں.یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آدمی خالی ہاتھہ جنگ و جدل میں مشغول قبائل اور بدوؤں کو اس طرح سے آپس میں جوڑ لے کہ وہ دو دہائیوں سے بھی کم کے مختصر عرصہ میں ایک انتہائی طاقتور اور مہذب قوم بن جائیں ؟ ایک تنہا مگر عظیم شخص ایک اولو العزم انسان جسے اس دنیا کو روشن کرنا تھا کیونکہ اسکا حکم اسے اسکے خدا نے دیا تھا
( تھامس کارلائل – ہیروز اینڈ ہیروز ورشپ )


ہمیں اسکے دین کے فروغ سے زیادہ اسکے دین کی استقامت پر حیرت ہونی چاہیے. وہی خالص اور مکمل احساس جسے اس نے مکّہ اور مدینہ میں کندہ کیا وہی احساس ہمیں ١٢ صدیاں گزرنے کے بعد بھی قرآن کے ماننے والے  انڈین ، افریکی اور ترکوں میں نظر آتا ہے. مسلمانوں نے بڑی کامیابی سے ان ترغیبات کا مقابلہ کیا جو انسانوں کی کسی بھی عقیدے سے وابستگی کو کم کر کے انکو انکے نفس کی خواھش  پر چھوڑ دیتی ہیں. ” میں اللہ واحد و لاشریک پر ایمان لاتا ہوں اور اس بات پر کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ” یہ ایک سادہ اور نہ قابل ترمیم دینی اعلان ہے.یہاں خدا کے منطقی تصور کو بتوں کے ذريعے گھٹایا نہیں اور نہ ہی رسول کی عظمت کو انسانی حدوں سے بڑھایا گیا.اسکی زندگی نے ایسی مثال قائم کی جس نے اسکے ماننے والوں کو مذہب اور معقولیت کی حدوں میں رکھا
(ایڈورڈ گبن اور سائمن اوکلے – ” تاریخ سلطنت شام و عرب “  – لندن ١٨٧٠ – صفحہ ٥٤ )


وہ خود میں ایک قیصر اور پوپ تھے پاپائیت سے منسوب الزامات اور دعووں سے مبرّا اور قیصرآنہ فوج اور شان و شوکت، محافظین ، محلات اور آمدنی کے بغیر. اگر کبھی بھی  کسی بھی  شخص کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس نے الوہی  حکومت کی ہے تو وہ شخص محمد کے علاوہ کوئی اور ہو نہیں سکتا بغیر الوہیت کے، الوہیت کی تمام تر طاقت لئے ھوۓ
( بوس ورتھ اسمتھ – محمد اور محمدی عقیدہ – ١٨٧٤ لندن – صفحہ :٩٢ )



یہ نا ممکن ہے کسی بھی ایسے شخص کے لئے جس نے عرب کے عظیم پیغمبر کی زندگی اور اسکے کردار کے بارے میں پڑھا ہو . جو یہ جانتا ہو کہ اس پیغمبر نے کیا تعلیم دی اور کیسے زندگی گزاری وہ اس اپنے دل میں اس عظیم پیغمبر کے لئے انتہائی احترام کے علاوہ کچھ اور محسوس کرے. اگرچہ میں انکے بارے میں آپ سے کچھ بھی کہوں، بہت سارے لوگ ایسے بھی ہونگے جن کے نزدیک میری باتیں نئی نہیں ہیں لیکن ابھی تک خود میں جب بھی اس عظیم پیغمبر کے بارے میں پڑھتی ہوں تو اس عظیم استاد کے لئے تعریف و توصیف کی ایک نئی لہر میرے اندر اٹھتی ہے اور احترام کا ایک نیا جذبہ میرے اندر کروٹ لیتا ہے.
( اینی بیسنٹ – ” محمد کی زندگی اور انکی تعلیمات ” – مدراس ١٩٣٢ – صفحہ ٤ )


اپنے عقیدے کی خاطر کسی بھی قسم کے ظلم اور زیادتی کو برداشت کرنے کی آمادگی ، اسکے ماننے والوں کا بلند اخلاق و کردار ، اسکے ماننے والوں کا رشد و ہدایت  کے لئے اسی کی طرف دیکھنا اور اسکی کامیابیوں کی شان و عظمت،  یہ سب اسکی ایمانداری اور دیانت داری کی طرف دلالت کرتی ہیں اسی لئے یہ خیال کرنا کہ وہ (معاذ الله ) جھوٹے تھے ، مشکلات کو حل کرنے کی بجائے بڑھا دیتا ہے. مزید برآں مغرب میں کسی بھی عظیم شخص کی ایسی بے توقیری اور قدر ناشناسی نہیں دیکھی گئی ہے جیسا کہ محمد کے لئے کی گئی ہے.
( منٹگمری واٹ -  مکّہ والے محمد – آکسفورڈ ١٩٥٣ – صفحہ ٥٢ )


انسان کامل ، محمد جو ٥٧٠ ء میں ایک ایسے قبیلے میں پیدا ھوۓ جو بتوں کو پوجتا تھا. پیدائشی یتیم تھے. وہ  خاص طور پر غریبوں اور ضرورت مندوں، بیواؤں اور یتیموں ، غلاموں اور پسے ہوؤں کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے. بیس سال کی عمر میں وہ ایک کامیاب تاجر بن گئے تھے اور ایک دولتمند بیوہ کے لئے تجارتی منتظم بن گئے تھے. جب پچیس سال کے ھوۓ تو انکی آجر انکی خوبیوں اور صلاحیتوں کو دیکھتے ھوۓ انھیں رشتہ بھیجا.اور باوجود اسکے کہ وہ ان سے ١٥ سال بڑی تھیں ، نا صرف شادی کی بلکہ جب تک زندہ رہیں اپنے آپ کو اپنی بیوی کے لئے وقف رکھا. ”
” ہر بڑے پیغمبر کی طرح وہ بھی خدا کے الفاظ و پیغام کو محض اپنی بشری کمزوریوں کی وجہ سے دہرانے میں متردد تھے. لیکن فرشتہ نے انھیں حکم دیا کہ “پڑھ ” . امی ہونے کے باوجود انہوں نے وہ الفاظ دوہرائے جنہوں نے زمین کے ایک بڑے حصّے میں انقلاب برپا کر دیا ” خدا ایک ہے ” .
” محمد سب سے زیادہ عملیت پسند تھے جب انکے پیارے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا ، تو اسی دن سورج  گرہن ہوا جسکو خدا کی طرف سے تعزیت قرار دیا جانے لگا. جس کے رد میں محمد کو یہ کہنا پڑا کہ گرہن لگنا قدرت کا ایک نظام کے تحت ہے. کسی کی زندگی اور موت کو اس سے منسوب کرنا حماقت ہے.”
محمد کی وفات پر جب لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا تو اسکے جانشین نے اس ہسٹیریا کو ایک تاریخی ، انتہائی اعلیٰ و بہترین خطاب سے رفع کیا کہ ” اگر تم میں سے کوئی محمد کی پرستش کرتا تھا تو محمد وفات پا چکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی پرستش کرتے ہو تو وہ ہمیشہ رہنے والا ہے.
( جیمز اے مچنر – ” اسلام : ایک غلط سمجھا گیا دین ” – ریڈرز ڈائجسٹ -مئی ١٩٥٥- صفحہ ٦٨-٧٠ )


ممکن ہے کہ انتہائی متاثر کن شخصیات میں محمد کا شمار سب سے پہلے کرنے پر کچھ لوگ حیران ہوں اور کچھ اعتراض کریں. لیکن یہ وہ واحد تاریخی ہستی ہیں جو کہ مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر کامیاب رہے”
” ہم جانتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب فتوحات کے انسانی تاریخ پر اثرات ہنوز موجود ہیں. یہ دینی اور دنیاوی اثرات کا ایسا بینظیر اشتراک ہے جو میرے خیال میں محمد کو انسانی تاریخ میں سب سے متاثر کن شخصیت قرار دینے کا جواز دیتا ہے
( مایکل ایچ ہارٹ – ١٠٠- عظیم آدمی )


یہ وہ پہلا مذہب ہے جس نے جمہوریت کی تبلیغ اور اسکی ترویج کی . جب مسجد میں پانچ وقت اذان دی جاتی ہے اور نمازی ، نماز کے لئے اکھٹے ہو جاتے ہیں تو اسلامی جمہوریت مجسم ہوجاتی ہے اور کسان اور بادشاہ گھٹنے سے گھٹنا ملائے خدا کی تکبیر بیان کرتے ہیں
( سروجنی نائیڈو -  اسلام کے آئیڈیلز – مدراس ١٩١٨ )



وہ انکا نہایت ایماندار حفاظت کرنے والا تھا جن کی اس نے حفاظت کی ، گفتار میں انتہائی شیریں اور متحمل . جنہوں نے بھی اسے وہ احترام کے جذبے سے مغلوب ھوۓ . جو اسکے قریب آئے اس پر فدا ھوۓ. جنہوں نے بھی اسکے بارے میں کچھ بتانا چاہا ، یہی کہا کہ ” میں نے ان جیسا نا پہلے نا بعد میں کبھی دیکھا ہے ” انکی خاموشی میں بھی انکی عظمت تھی لیکن جب بھی انہوں نے بات کی زور دیکر اور بہت سوچ بچار کر کی اور کوئی بھی انکی کہی ہوئی بات کو بھول نا سکا
( اسٹینلے لینی پول – ٹیبل ٹاک آف دی پرافٹ )

ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام کو انکی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے.اسلام کے بارے میں ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ غلط سمجھا گیا دین ہےآپ ہندو مت کو سمجھنے کے لئے ہندو انتہا پسندوں کی طرف نہیں دیکھتے، سکھ مذھب کو سمجھنے کے لئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اسکے ساتھیوں کی طرف نہیں دیکھتے اسی طرح آپکو اسلام سمجھنے کے لئے اسکے نام نہاد پیروکاروں کی بجائے پسغمبر اسلام کی تعلیمات کو دیکھنا چاہیے. لوگوں کو ایک بات سمجھنا چاہیے کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا. انڈونیشیا اور ملائشیا میں کبھی اسلامی فوج داخل نہیں ہوئی تھی. لیکن اسکے باوجود وہاں پر ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا. محمد صلی اللہ علیھ وسلم نے ہمیں ایک قادر مطلق خدا کی عبادت کرنا سکھائی.دوسرے مذھب کے برعکس جہاں مختلف کاموں کے لئے مختلف خدا ہیں.
( خشونت سنگھ – مالا پرّم ٹاون ہال – فروری ٢٠١٠ )

غزوہ احد میں ہر شہید مسلمان نے اپنے پیچھے بیویاں اور بچیاں چھوڑیں جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا .اس غزوہ کے بعد قرانی آیت نازل ہوئیں جن میں چار شادیوں کی اجازت دی گئی تھی.  اسلام میں کثیر الازدواجی کی اجازت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے عورت کے مصائب اور تکلیف کا ایک بڑا سبب بتایا جاتا ہے. لیکن جب یہ اجازت دی گئی اس وقت یہ ایک نہایت عمدہ معاشرتی قدم تھا.اسلام سے پہلے مردوں اور عورتوں کو ایک سے زیادہ بیویاں اور شوھر رکھنے کی اجازت تھی. شادی کے بعد عورتیں اپنے میکے میں ہی رہتیں تھیں جہاں انکے شوہر ان سے ملنے آتے.یہ معاشرتی سیٹ اپ ایک قانونی قحبہ گری سے زیادہ کچھ نہ تھا. شوہروں کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے بچوں کی ولدیت کا تعین مشکل تھا اور بچے اپنی ماں سے پہچانے جاتے تھے اسی وجہ سے مرد نان و نفقہ اور اولاد کی پرورش سے آزاد رہے.اسلام سے پہلے عورت حق وراثت اور حق ملکیت سے محروم تھی.جو بھی آمدنی اسکی طرف آتی تھی وہ اسکے گھر والوں خاص طور گھر کے مردوں کے پاس چلی جاتی تھی. عورت کے لئے کاروبار چلانا اور جائیداد کا انتظام و انصرام سنبھالنا ایک مضحکہ خیز خیال محسوس ہوتا تھا. عورت کو کوئی انفرادی حقوق حاصل نہیں تھے اور اسکی حثیت مرد کی ملکیت سے زیادہ نہیں تھی.
اسلامی کثیر الازدواجی در حقیقت ایک سماجی قانون سازی ہے. جس میں عورت کو مرد کی خواھش پورا کرنے کا آلہ نہیں بنایا بلکہ کمزور اور بے سہارا خواتین کے لئے گھروں کا اور نگہبانوں کا انتظام کیا ،تمام تر حقوق ،عزت اور احترام کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر وراثت میں وہ حقوق دے جو مغربی خواتین کو ١٩ صدی عیسوی تک میسر ہی نہیں تھے.
( کیرن آرمسٹرانگ – ” محمد : ہمارے عہد کے نبی” )
ان اقتباسات کو پڑھنے کے بعد اب ذرایہاں نظر ڈالیے.میں نے جب یہ پڑھا تو فوری طور پر مجھے محسوس ہوا کہ یہ جذبات سے کھیلنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں. صاحب بلاگ جو کل تک تشکیک پسند  بلکہ تشکیک پیشہ تھے اپنے سر سے تشکیک کی پگڑی اتار کر محمد (صلی الله علیھ وسلم ) سے بغض کا روایتی چولا اوڑھ لیا.جو کہ آج کل دنیا کعلیہے فیشن میں ان ہوتا جا رہا ہے.
١) 
بات مضحکہ خیز حد تک بچگانہ ہے کہ ایک طرف آپکو خدا کے وجود کے بارے میں ہی شکوک و شبہات ہیں (زبانی طور پر نہیں، تحریری طور پر . زبانی طور پر موصوف اپنے آپکو مرد مومن کہلانا پسند کرتے ہیں ) تو دوسری طور طرف اسی کے بھیجے ہوے ایک نبی کو حق اور معیار مانتے ہوے ، اسی کے بھیجے ہوے دوسرے نبی پر طنز اور طعنوں کے تیر برساتے ہیں . پہلے موصوف خدا کے وجود اور عدم وجود  پر بحث کرتے تھے ابھی وہ بحثیں تشنہ ہی تھیں اور سوالات جواب طلب ہی تھے کہ یکایک انھیں ” سچے” نبی کی ضرورت محسوس ہوئی.خدا تو ملا نہیں مگر اپنی مرضی کا نبی مل گیا. ہے نا مضحکہ خیز صورتحال؟ .
٢)  موصوف نے انبیا کو دے گئے الگ الگ مقاصد کو آنکھوں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی اور ایک نبی کے مقصد کو حق قرار دے کر دوسرے نبی پر تنقید کی. حالانکہ مسلمان کی حثیت سے ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ ہر نبی بر حق ہے. حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کا مقصد اصلاح کے سوا کچھ نہیں تھا. وہ بد عنوان اور نا فرمان بنی اسرائیل کو الله کی اطاعت کی طرف بلانے کے لئے آئے تھے. سیدنا مسیح کا خود اپنا اعلان بھی یہی ہے۔کہ ” میں صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لیے آیا ہوں”۔ جب غیروں نے ان کی روحانی کمالات سے استفادہ کرنے کی اپیل کی تو اس نے جواب میں کہا ۔ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینا اچھا نہیں ( انجیل متی ، باب ۱۵ ، آیت ۲۶ ) اس عظیم الشان مقصد کے برعکس  بنی اسرائیل کسی بادشاہ کے منتظر تھے.جو انھیں ذلت اور رسوائی سے نجات دلا سکے. جس کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام انکے ظلم و زیادتی اور سازشوں کا نشانہ بنے. حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کو بھیجنے کا مقصد اصلاح کے ساتھ ساتھ اتمام حجت بھی تھا. جب بنی اسرائیل نے بحیثیت مجموئی حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کو جھٹلایا تو الله سبحانه تعالیٰ ان کو ان کے منصب سے محروم کر دیا اور نبوت بنی اسرائیل سے نکل کر بنی اسمٰعیل میں آگئی.
حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کے برعکس نبی آخر الزمان صلی الله علیھ وسلم کو دین کو اسکی پوری طاقت کے ساتھ نافذ کرنے کا حکم تھا. ایک شریعت عطا کی گئی تھی جو حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کو نہیں دی گئی .کیونکہ نبی آخر الزمان صلی الله علیھ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا اسی لئے جگه جگھ کفر کو جنگ و جدل سے رفع کرنے اور جزیرہ نما عرب سے ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا. اور نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے تئیس سال کے مختصر عرصے میں ایک اسلامی ریاست قائم کر کے دکھائی.
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بے ایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔ ‏﴿009:012﴾
اُن سے خوب لڑو۔ خدا انکو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔ ‏﴿009:014﴾
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔﴿009:073﴾
تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم تو غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا ‏.﴿047:035﴾
٣ )  انبیا کا کام نتائج سے بے پرواہ ہو کر الله سبحانه تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانا ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک یہی انکی کامیابی ہے.مگر یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ خود مسیحی دنیا میں انکے کام کے نتائج کو کس طرح دیکھا گیا. مایکل ایچ ہارٹ اپنی کتاب ” ١٠٠ : عظیم انسان ” میں لکھتا ہے کہ :
یہ بات عجیب محسوس ہوتی ہے کہ (اپنی کتاب میں ) حضرت  محمد صلی الله علیھ وسلم کو حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام سے بلند مقام دیا گیا ہے. اس فیصلے کی دو وجوہات ہیں . اول : مسیحت کے فروغ میں حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کی نسبت اسلام کی ترویج میں حضرت محمد صلی الله علیھ وسلم کا کردار کہیں زیادہ بھرپور اور اہم رہا ہے. ہر چند کہ عیسایت کے بنیادی اخلاقی اعتقادات کی تشکیل میں حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کی شخصیت بنیادی رہی ہے لیکن صحیح معنوں میں عیسایت کی ترویج میں حقیقی پیش رفت سینٹ پال نے کی. اس نے عیسائی پیروکاروں کی تعداد میں نا صرف اضافہ کیا بلکہ عہد نامہ جدید کے ایک بڑے حصّے کا مصّنف بھی وہی ہے”
دوسری جانب کیرن آرمسٹرانگ نے ایک انٹرویو میں عیسایت اور اسلام کا تقابل کرتے ہوے کہا کہ :
اسلام فتح کا دین ہے. عیسایت کے برعکس جہاں بڑا تصور (کم از کم  یورپ کی حد تک تو ہے )  یہ ہے کہ ایک آدمی المناک ، ذلّت آمیز (معاذ الله ) اور بے چارگی کی موت مرا. محمد کسی بھی قسم کی نمایاں ناکامی سے دو چار نہیں ھوۓ. وہ ایک خیرہ کن کامیابی تھے، سیاسی طور پر  اور روحانی طور پربھی اور اسلام طاقت پکڑتا رہا ،پکڑتا رہا اور پکڑتا رہا…
بیسویں صدی سے قبل اسلام ، عیسایت سے کہیں زیادہ روادار اور پر امن مذہب تھا. قرآن نے دین میں کسی بھی قسم کے جبر کوسختی سے روکا ہے اور تمام آسمانی مذاھب کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے. اور مغربی تصور کے بر عکس مسلمانوں نے اپنا دین تلوار کے زور پر نہیں پھیلایا ہے.
٤) پھر موصوف فرماتے ہیں کہ :
وہ تو بس انسان کے لیے جیے اور انسان کے لیے ہی مرے، اس سے قطع نظر کہ ان کا کردار حقیقت تھا یا فسانہ، وہ تھے یا نہیں، میں نے ان سے دو سبق ضرور سیکھیں ہیں:
اول: اس سے بڑی محبت اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ جنہیں چاہتے ہیں ان کی چاہت میں اپنی جان تک سے گزر جائیں.”
یہ ایک نبی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ اللہ سبحانه تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو اپنی محبت کا مرکز بنائے. ایک نبی تو بہت بڑی ہستی ہوتا ہے ایک مومن کے لئے بھی یہ روا نہیں کہ وہ غیر الله کی محبت کو الله کی محبت سے زیادہ بڑھادے. انسانوں سے محبت اللہ کے لئے ہوتی ہے. اس مشن کی خاطر ہوتی ہے جس میں انھیں انسانوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا کام سونپا گیا ہوتا ہے. مجھے نہیں معلوم کے موصوف نے حضرت عیسی علیہ صلواۃ و السلام کی حیات مبارکہ کو کتنا پڑھا ہے مگر ایک مسلمان کی حثیت سے میں انھیں طائف کے واقعہ کی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب اہل طائف نے نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی دعوت حق کے جواب میں ان پر پتھروں کی بارش اور خون میں نہلا دیا یہاں تک کہ انکا جوتا بھی خون سے بھرگیا یہ واقعہ اتنا دلدوز تھا کہ ماں سے ستر گناہ محبت رکھنے والی ہستی بھی غیظ و غضب میں آگئی اورفرشتوں کو آپکے پاس بھیجا جنہوں نے آپ سے اجازت طلب کی کہ اگر نبی حکم کریں تو اہل طائف کو وادی میں موجود دو بارے پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالیں. مگر قربان جائے محسن انسانیت کی کریمی کے کہ اس وقت بھی انھیں اہل طائف کیلئے دوزخ کی آگ سے بچانے کی فکر تھی. یہ فکر نبوت کے ساتھ ہی ودیعت ہوئی اور ہرگزرتے دن  اس میں شدت آتی گئی . یہ فکر اتنی شدت اختیار کر گئی کہ الله رب العزت کو نبی کریم پر شفقت فرمانی پڑی اور کہا :
(اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم کے ان پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے  ( سوره کہف – آیت ٦ )
نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم کی شان کریمی کی کیا بات کی جائے اور کہاں تک کی جائے . جب الله سبحانه تعالیٰ نے تلوار سے معاملات صحیح کرنے کا حکم دیا تو تلوار اٹھائی اور جب معاملات نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی صوابدید پرچھوڑے تو معاف کیا. کیا موصوف دنیا میں کسی ایسے عظیم الشان انقلاب کی مثال دے سکتے ہیں کہ جسے اتنا کم خون بہا کر لایا گیا ہو.
٥) موصوف فرماتے ہیں کہ :
تاریخ ہمیشہ عظیم لوگوں کو یاد رکھتی ہے تاکہ دنیا ان کے بارے میں جان سکے، مگر حضرت عیسی علیہ السلام نے ایسا نہیں کی
حضرت عیسی علیہ السلام نے نا تلوار اٹھائی نا فوج بنائی، نہ جنگ کی نہ قتل کیے، نہ کسی کو غلام بنایا نہ کسی کو کنیز بنایا اور نہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر جانا…
انہوں نے کوئی مملکت نہیں بنائی اور نہ صدر بننے کی کوشش کی، کوئی نظام بنا کر لوگوں کو اس کا قیدی نہیں بنایا، نہ کسی سے خیانت کی نہ اپنے مخالفین کو قید کیا اور نہ اپنے پیغام کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آلودہ کیا…
مجھے نہیں معلوم کہ موصوف نے کس کی تاریخ پڑھی ہے. لیکن کیا موصوف انسانی تاریخ کے کسی بھی دور کو نبی کریم صلی الله علیھ وسلم اور خلافت راشدہ کے مقابلے میں رکھ سکتے ہیں؟
جب ایک شہری خلیفہ وقت سے سوال کرتا تھا کہ یہ جو آپ کے کرتے میں زائد کپڑا لگا ہے یہ کہاں سے آیا؟. جب غیر ملکی قاصد اور وفود خلیفہ وقت کے رہن سہن کی سادگی دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے.جب خلیفہ وقت نا دن میں سوتے تھے اور نا رات میں اپنی نیند پوری کرتے تھے.  جب خلیفہ وقت بھوک سے روتے بچوں کی آواز سنتے تو خود آتے کی بوری اپنے کاندھے پر اٹھا کر لاتے تھے. جب دجلہ کے کنارے پر کسی کتے کے بھوک سے مر جانے کا خوف بے چین کر دیا کرتا تھا ؟ جب تنخواہ اتنی لی جاتی تھی کہ جس سے جسم اور روح کا رشتہ برقرا رکھا جا سکے…جب انصاف کسی رشتے ناطے کو نہیں دیکھتا تھا…یہ دور اتنا زرین تھا کہ جس کی پشین گوئی خود نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے کی :
” مجھ سے محمد بن حکم نے بیان کیا ، کہا ہم کو نضر نے خبردی ، کہاہم کو اسرائیل نے خبردی ، کہا ہم کو سعد طائی نے خبردی ، انہیں محل بن خلیفہ نے خبردی ، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کی ، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عدی ! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے ؟ ( جوکوفہ کے پاس ایک بستی ہے ) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں ، البتہ اس کانام میں نے سنا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور ( مکہ پہنچ کر ) کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہوگا ۔ میں نے ( حیرت سے ) اپنے دل میں کہا ، پھر قبیلہ طے کے ان ڈاکوو ¿ں کا کیا ہوگا جنہوں نے شہروں کو تباہ کردیا ہے اور فساد کی آگ سلگارکھی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو کسریٰ کے خزانے ( تم پر ) کھولے جائیں گے ۔ میں ( حیرت میں ) بول پڑا کسریٰ بن ہرمز ( ایران کا بادشاہ ) کسریٰ آپ نے فرمایا : ہاں کسریٰ بن ہرمز ! اور اگر تم کچھ دنوں تک اور زندہ رہے تویہ بھی دیکھو گے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا چاندی بھر کر نکلے گا ، اسے کسی ایسے آدمی کی تلاش ہوگی ( جو اس کی زکوٰۃ ) قبول کرلے لیکن اسے کوئی ایساآدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کرلے ، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا جودن مقرر ہے اس وقت تم میں سے ہر کوئی اللہ سے اس حال میںملاقات کرے گا کہ درمیان میںکوئی ترجمان نہ ہوگا ( بلکہ پروردگار اس سے بلاواسطہ باتیں کرے گا ) اللہ تعالیٰ اس سے دریافت کرے گا ۔ کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہیں بھیجے تھے جنہوں نے تم تک میرا پیغام پہنچا دیاہو ؟ وہ عرض کرے گا بے شک تونے بھیجا تھا ۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کیا میں نے مال اور اولاد تمہیں نہیں دی تھی ؟ کیا میں نے ان کے ذریعہ تمہیں فضیلت نہیں دی تھی ؟ وہ جواب دے گا بے شک تونے دیا تھا ۔ پھر وہ اپنی داہنی طرف دیکھے گا تو سوا جہنم کے اسے اور کچھ نظر نہ آئے گا پھر وہ بائیںطرف دیکھے گا تو ادھر بھی جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا ، عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے کہ جہنم سے ڈرو ، اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو ۔ اگر کسی کو کھجور کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہ آسکے تو ( کسی سے ) ایک اچھا کلمہ ہی کہہ دے ۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہودج میںبیٹھی ہوئی ایک اکیلی عورت کو تو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے لیے نکلی اور ( مکہ پہنچ کر ) اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی سے ( ڈاکو وغیرہ ) کا ( راستے میں ) خوف نہیں تھا اور مجاہدین کی اس جماعت میں تو میں خود شریک تھا جس نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے ۔ اور اگر تم لوگ کچھ دنوں اور زندہ رہے تو وہ بھی دیکھ لوگے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں ( زکوٰۃ کا سونا چاندی ) بھر کر نکلے گا ( لیکن اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ) مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم کو سعد ان بن بشر نے خبردی ، ان سے ابو مجاہد نے بیان کیا ، ان سے محل بن خلیفہ نے بیان کیا ، اور انہوں نے عدی رضی اللہ سنے سنا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ، پھر یہی حدیث نقل کی جو اوپرمذکور ہوئی ۔” 
( صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، باب ‫آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان -حدیث  ٣٥٩٥ )
نوٹ : حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مال ودولت کی فراوانی کی پیش گوئی بھی پوری ہوئی کہ مسلمانوں کو اللہ نے بہت دولت مند بنادیا تھا کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ تھا۔ حافظ نے کہا کہ حیرہ عرب کے ان بادشاہوں کا پایہ تخت تھا جو ایران کے ماتحت تھے۔
٦ ) آخر میں اپنے دل و دماغ کو ملے اس صدمے کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ جو موصوف کی تحریر پڑھ کر ہوا. یہ تحریر صاف صاف بتا رہی ہے کہ معاملہ حب علی کا نہیں بلکہ بغض معاویہ کا ہے.اپنے تحفظات کے باوجود میں خدا کے بارے میں انکے بلاگ پر بحثوں کو بڑے شوق سے پڑھتا تھا. عقل شعور سے خدا کو پہچاننا یا پہچاننے کی جستجو کرنا کوئی قابل مذمت فعل نہیں …مذمت کے لائق وہ جھوٹ ، فریب اور دین سے نفرت ہے جو روپ بدل بدل کر آج ہمارے سامنے آرہی ہے. موصوف کی تحریر پڑھ کر مجھے وہی احساس ہوا جو کہ ایک چین سموکر کو سگریٹ کا پیکٹ کھولنے پر پیکٹ کے اندر بیڑی دیکھ کر ہو سکتا ہے. گویا مضمون وہی ہے مگر عنوانات الگ الگ …. آخر میں مضمون نگار سے افسوس کا اظہار کہ جناب کا خدا کی تلاش میں آسمانوں کا سفر توہین رسالت کے گٹر میں گر ختم ہوا…

Monday, May 2, 2011

روشن خیال اور پسندیدہ گھناؤنیت

دو دن پہلے ایک سوال میرے ذہن میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ شہد کی مکھی گھورے پر اور ایک عام مکھی پھولوں پر نہیں بیٹھتی .جواب آسان ہے کہ یہ سب الله سبحانه تعالیٰ کی ودیعت کردہ فطرت ہے جو کسی بھی جاندار کو اسکے افعال پر مجبور کرتی ہے. یہ سوال مجھے عنیقہ ناز صاحبہ کے بلاگ پر ایک تبصرہ دیکھہ کر ذہن میں آیا. عنیقہ ناز صاحبہ کے بلاگ پر "کسی" نے تبصرہ کرتے ھوۓ مستشرقین کا بہت پرانا حملہ کیا جو وہ نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی ذات اقدس پر کرتے ہیں.یہ حملہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی عمر کے حوالے سے تھا جو نبی کریم صلی الله علیھ وسلم سے انکی شادی کے وقت تھی. اور اسطرح سے نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی ذات اقدس پر نہایت ہی گھناونے الزام کا اعادہ کیا جسے قلمبند کرتے ھوۓ بھی دل کانپ جاتا ہے. اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس مملکت خداداد میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے اسلام کو بدنام کرنے کا کام ٹھیکے پر لے لیا ہے. جو اس کام کے لئے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ایسی چیزیں لے کر آتے ہیں جنہیں گھناونے مطلب پہنائے جا سکیں.جن کے لئے بے اختیار علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آجاتا ہے کہ:

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اس سارے حملے کی بنیاد ایک صحیح حدیث ہے. سب سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کے احادیث مبارکہ کے لئے میرے دل میں جذبہ کسی کٹر اہل حدیث سے کم نہیں. مگر ساتھ ساتھ میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اگر کسی حدیث سے اگر کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کا پہلو نکلتا ہو تو اس پر جرح ہونی چاہیے اور غالباً یہی جرح و تعدیل کا اصول بھی ہے. آج سے دو سال قبل میں نے ایک ملعون کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی کم عمری کی شادی کے حوالے سے نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالتے دیکھا تو میں دم بخود رہ گیا. بات چونکہ ایک صحیح حدیث کے حوالے سے ہو رہی تھی اس لئے کوئی مناسب جواب نہیں سوجھا. لیکن مجھے اس مسئلہ کی کھوج لگ گئی تاآنکہ مجھے اس کے جوابات مل گئے.ان جوابات سے میرا اطمینان ہوا . یہ دلائل انگریزی میں ہیں اور ابھی تک میں نے اردو میں یہ دلائل نہیں دیکھے. اسی لئے میں نے ان جوابات کا ترجمہ اور تخلیص کی ہے . یہ دلائل یقیناً آپکی نظروں سے گزرے ہونگے مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ سب کچھ نہیں سننا چاہتے اور ان باتوں کو خواہ مخواہ کی تاویل قرار دینگے . یہ طبقہ میرا مخاطب نہیں ، میرا مخاطب وہ طبقہ ہے جو ان الزامات کو سن کر میری طرح سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ صحیح حدیث کا انکار کرے یہ ان الزامات کو تسلیم کرے .ظاہر ہے کہ یہ دونوں صورتیں مشکل ہیں اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ معاملہ ناموس رسالت کا ہے تو پھر حدیث کا جائزہ لینا پڑتا ہے مقصد صرف یہی ہے کہ صاحبان علم کی رائے لی جائے. ان دلائل کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہشام ابن عروہ کی روایت کی ہوئی حدیث میں علم الرجال اور مستند تاریخی حوالوں سے کئی سقم ہیں.
لیکن اس اس حدیث کی روایت اور متن کا جائزہ لینے سے پہلے کچھ حقیقتوں کا جائزہ لینا ہوگا. یہ حقیقتیں ایسی روشن اور واضح ہیں کہ اگر کوئی اور بات نہ بھی کی جائے تو یہ حقیقتیں اس الزام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں.

١) نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کوئی ایسی شخصیت نہیں تھے جن سے کسی نےکبھی بھی کوئی نا مناسب بات منسوب کی ہو. نہ ہی انکی معصوم ، پاکیزہ اور بے داغ جوانی پر کسی نے انگلیاں اٹھائیں .وہ بعثت سے پہلے بھی صادق اور امین کے نام سے جانے جاتے تھے اورجب دوسرے نوجوان لہولہب میں اپنی شامیں گزار رہے ہوتے تھے تو نبی کریم صلی الله علیھ وسلم جوانی کی راتوں کو عبادت ذکرو فکر میں گزارا کرتے تھے.

٢) نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی پہلی شادی ٢٥ سال کی عمر میں اپنی عمر سے ١٥ سال بڑی ام المومنین حضرت خدیجہ رضی الله تعالیٰ عنہا سے ہوئی. یہ شادی نہایت خوشگوار تھی اور حضرت خدیجہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی زندگی میں نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے دوسری شادی نہیں کی. یہ شادی ام المومنین حضرت خدیجہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی وفات تک تقریباً ٢٥ سال چلی.ام المومنین حضرت خدیجہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی وفات کے وقت نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی عمر مبارک ٥٠ سال تھی . یعنی عہد شباب اور ادھیڑ عمری کا ایک حصّہ صرف ایک ہی عورت کے ساتھ بسر کیا.

٣) ام المومنین حضرت خدیجہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد نبی کریم صلی الله علیھ وسلم ام المومنین حضرت سودہ رضی الله تعالیٰ عنہا سے شادی کی جنکی شادی کے وقت عمر تقریباً ٥٠ سال تھی .

٤) نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے بعض روایات کے مطابق ١١ اوربعض کے مطابق ١٣ شادیاں کیں مگر سوائے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کے کوئی بھی شادی کے وقت کنواری ، باکرہ اور کم عمر نہیں تھیں.

٥) ان شادیوں کا مقصد دین کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں آسانیاں پیدا کرنا اور مختلف عرب قبائل کی تالیف قلب مقصود تھی .

٦) عربوں میں دور جاھلیت یا اسکے بعد بھی بچوں کی شادی کا کبھی رواج نہیں رہا ہے. یہ کلی طور پر برصغیر پاک و ہند کی ایک معاشرتی روایت ہے. عربوں کی مستند تواریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ جس میں ٩ سالہ بچی کی رخصتی کی گئی ہو.

آئیے اب ان اشکالات کا جائزہ لیتے ہیں جو اس حدیث کی روایت پر علم الرجال اور مستند تاریخی حوالوں سے وارد ہوتے ہیں

* اس حدیث کے بیان کرنے والوں میں سب نے اسے صرف ایک شخص ہشام ابن عروہ کی روایت پر نقل کیا ہے جو اپنے والد کی سند پر اس واقعہ کی خبر دیتے ہیں.عقل مطالبہ کرتی ہے کہ اس قسم کے واقعہ اگر بہت زیادہ نہیں تو کئی شاہد ضرور ہوں . یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہشام ابن عروہ جنہوں نے مدینہ میں اپنی زندگی کے ٧١ سال گزارے، مدینہ کے رہنے والوں نے اس واقعہ کو نقل نہیں کیا حالانکہ ان کے شاگردوں میں مالک ابن انس جیسی قابل احترام شخصیت بھی موجود تھی. اور اس واقعہ کی خبر دینے والے سارے راوی عراق کے رہنے والے ہیں جہاں ہشام ابن عروہ بعد میں منتقل ہوگئے تھے.

* تہذیب التھذیب ، علم الرجال کی ایک مستند ترین کتاب ہے. اس کتاب میں یعقوب ابن شعبہ بیان فرماتے ہیں کہ " ہشام ابن عروہ انتہائی قابل اعتماد ہیں. انکی ساری روایات قابل قبول ہیں سوائے ان روایات کے جنکے نقل کرنے والے عراق کے لوگ ہوں. (جلد ١١ صفحہ ٤٨-٥١ )

* تہذیب التھذیب میں ہی مزید لکھا ہے مالک ابن انس کو ہشام ابن عروہ کی ان ساری روایات پر اعتراض تھا جو عراق کے رہنے والوں نے نقل کی ہیں. (جلد ١١ صفحہ ٥٠ )

* میزان الاعتدال علم الرجال کی ایک اور مستند کتاب ہے . اس میں ہشام ابن عروہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ " ضعیف العمری میں انکی یاداشت بری طرح متاثر ہوئی تھی "
(جلد ٤ صفحہ ٣٠١ )

* عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی پیدائش ہجرت سے ٨ سال پہلے کی ہے.تاہم کتاب التفسیر میں صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت کے مطابق ام المومنین فرماتی ہیں کہ جب سورہ القمر نازل ہو رہی تھی تو میں ایک چھوٹی لڑکی تھی . سورہ القمر ہجرت سے ٩ سال پہلے نازل ہوئی. اس روایت کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا ہجرت سے ٩ سال پہلے ایک چھوٹی لڑکی (جاریہ ) تھیں.انہوں نے اپنے آپ کو نو مولود ( صبيه ) نہیں کہا. اگر اس روایت کو درست منا جائے تو ہشام ابن عروہ والی روتا غلط قرار پاتی ہے اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ہشام ابن عروہ والی روایت پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی روایت کو ترجیح نہ دیں.

* متعدد روایات کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کی. مزید بر آں احادیث اور تاریخ کی کتب میں یہ درج ہے کہ کسی بھی ١٥ سال سے کم عمر صحابی یا صحابیہ کو غزوہ احد میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی . ١٥ سال سے کم عمر تمام لڑکوں کو گھر واپس بھیج دیا گیا. غزوہ بدر اور غزوہ احد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ کی شرکت یہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس وقت ٩ یا ١٠ سال کی نہیں تھیں.

* تقریباً تمام مورخین کے نزدیک حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی بڑی بہن حضرت اسماء رضی الله تعالیٰ عنہا ان سے عمر میں ١٠ سال بڑی تھیں. تقریب التہذیب ( صفحہ ٦٥٤) میں امام ہجر عسقلانی اور بدایہ و النہایہ (جلد ٨ صفحہ ٣٧١) میں ابن کثیر اور یہی بات ابن ابی زناد الذہبی (جلد ٢ صفحہ ٢٨٩ )میں لکھتے ہیں کہ حضرت اسماء رضی الله تعالیٰ عنہا کا انتقال ہجرت کے تہترویں سال میں ہوا جب وہ ١٠٠ سال کی تھیں. اب اگر حضرت اسماء رضی الله تعالیٰ عنہا کی عمر ہجرت کہ تہترویں سال میں ١٠٠ سال تھی تو ہجرت کے وقت انکی عمر ٢٧ یا ٢٨ سال ہونی چاہیے. اور اسی لحاظ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر ١٧ یا ١٨ سال ہونی چاہیے. اسی لئے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اگرحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی ہجرت کے پہلے یا دوسرے سال میں ہوئی تو شادی کے وقت انکی عمر ١٨ سے ٢٠ سال کے درمیان ہونی چاہیے.

* اگرچہ ابن جریر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی کے وقت ٩ سال خیال کرتے ہیں لیکن خود ہی دوسری جگہ یعنی تاریخ طبری میں بیان فرماتے ہیں کہ " حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی چاروں اولادیں جو دو بیویوں سے تھیں اسلام سے پہلے(نبی کریم پر پہلی وحی سے پہلے) پیدا ہوئی تھیں". (جلد ٤ صفحہ ٥٠ )
اب اگر یہ مانا جائے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی پیدائش وحی کے سلسلے سے پہلے کی ہے تو یہ ممکن نہیں کہ ہجرت کے پہلے دوسرے سال میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر ١٤ سال سے کم ہو.

* دوسری جگہ ابن جریر لکھتے ہیں کہ حبشہ ہجرت سے کے وقت یعنی مدینہ ہجرت سے ٨ سال پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کی رخصتی کے سلسلے میں متعم کے پاس گئے گئے جس کے بیٹے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کا نکاح ہوا تھا مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا کو طلاق دلوائی. اب اگر نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم سے انکی شادی کے وقت انکی عمر ٧ سال تسلیم کی جائے تو انکا ہجرت حبشہ کے وقت پیدا ہونا بھی ممکن نہ ہوگا. اسی بات کو حبیب الرحمن کاندھلوی نے اپنی کتاب "تحقیق عمر صدیقہ کائنات" میں صفحہ ٣٨ پر نقل کیا ہے.

* مشہور سیرت نگار ابن ہشام کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا. یہ ظاہر کرتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا اسلام کے پہلے سال میں ہی ایمان لے آئی تھیں. اب اگر اس بات کو مانا جائے کہ انکی رخصتی ٩ سال کی عمر میں ہجرت کے دوسرے تیسرے سال ہوئی ہے تو اسلام کے پہلے سال تو انہیں پیدا بھی نہیں ہونا چاہیے تھا.

* امام احمد بن حنبل کی روایت کے مطابق حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کے پاس گئیں اور انھیں شادی کا مشورہ دیا. نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے انکی رائے مانگی تو انہوں نے کہا کہ " آپ ایک بکر ( باکرہ/ کنواری ) یا طیب عورتوں (مطلقہ یا بیوہ ) سے نکاح کرسکتے ہیں" جب نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم نے کنواری عورت سے شادی کرنے کی خواھش ظاہر کی تو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام تجویز کیا. (مسند احمد بن حنبل جلد ٦ صفحہ ٢١٠)
اب جو لوگ بھی عربی سے واقفیت رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عربی زبان میں باکرہ ایک ٧ یا ٩ سال کی بچی کے لئے نہیں بولا جاتا بلکہ ان خواتین کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہوں.کسی ٩ سالہ نابالغ بچی کے لئے تو ہر گز نہیں.

* ابن حجر کے مطابق حضرت فاطمہ رضی الله تعالیٰ عنہا کعبہ کی تعمیر نو کے وقت پیدا ہوئی تھیں جب نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم کی عمر مبارک ٣٥ سال تھی اور عمر میں وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ٥ سال بڑی تھیں ( الإصابة في تمييز الصحابة - جلد ٤ صفحہ ٣٧٧)
اب اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت پیدا ہوئیں جب نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم کی عمر ٤٠ سال تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم سے شادی کے وقت انکی عمر ١٢ سال سے کم نہیں ہونی چاہیے. کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیھ وسلم کی عمر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کے وقت ٥٢ سال تھی.

ان دلائل سے یہ بات صاف ظاہر ہو رہی ہے کہ اس روایت میں سقم ہیں. یہ شادی ٩ سال کی عمر میں نہیں ہوئی غالب امکان اس بات کا ہے کہ شادی کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر ١٧ یا ١٨ سال رہی ہوگی. واللہ عالم بالصواب.

حقوق نسواں ....دجال کا سب سے کامیاب حربہ -٢

یہ اقتباس برونن کرن کی کتاب "ان ٹو دی مرر " سے لیا گیا ہے . برونن کرن ،اسلام آباد میں قیام پذیر مواصلاتی مشیر ہیں. انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں اے ایف پی کی نامہ نگار کے طور پر ٢٠٠٢ سے ٢٠٠٤ تک کام کیا تھا. ساتھ ہی ساتھ افغانستان میں اقوام متحدہ کی ترجمان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں. انہوں نے مختاراں مائی کی مبینہ زیادتی پر ایک چشم کشا کتاب "ان ٹو دی مرر " لکھی. یہ کتاب پاکستان میں قبائلی روایات اور طرز زندگی پر روشنی ڈالتی ہے اور کہانی کے دونوں اطراف کی تفاصیل معلوم کر کے گاؤں کی عورت سے اجتماعی زیادتی کے پیچھے چھپے حقائق دریافت کرنے کی کوشش کرتی ہے.

نومبر ٢٠٠٥ - میروالا
" وہ اسکی دلہن تھی " خزاں کی دوپہر میں بچوں کے پھٹے پرانے کپڑوں کے درمیاں بیٹھی بوڑھی بیوہ چللائی . ناک پر سونے کی لونگ لئے پھول دار جامنی چادر سے چہرے اور آنسوؤں کو چھپاتے ہوے سسکتے ہوے . اس جگه جہاں مبینہ طور پر مختاراں مائی کی اجتماعی زیادتی ہوئی تھی .
"ہم نے لڑکی کو نہیں اٹھایا تھا وہ آپ سے اور سب سے جھوٹ بول رہے ہیں. اس طرح سے لڑکی کو اٹھانا اور یہ سب کرنا اسلام کے سخت خلاف ہے. یہ حرکت نہایت گھناؤنی اور ہمارے قبائلی معاشرے میں حیران کن حد تک نامانوس ہے."
عمر کی ساٹھویں دھائی میں اپنے گھر کے خاک آلود صحن میں چار پائی پر بیٹھی ، تاج مائی مستوئی رو رہی تھی .
" کسی کو بھی احساس نہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں " اپنے گھٹنوں کو ٹھوڑی سے لگاتے ھوۓ وہ شدید غم و غصّے سے بولی .
" کوئی اجتماعی زیادتی نہیں ہوئی اور نا ہی کوئی پنچایت بیٹھی .وہ اس گھر میں دلہن بن کے آئ تھی."
یہ گھر اب عورتوں کا گھر ہے . اس گھر کے سارے مرد جیل میں ہیں. دو بیٹوں پر مختاراں مائی سے زنا بالجبر ، ایک بیٹے پر مخاران مائی کے بھائی سے زیادتی ، اسکے چار بھائیوں اور دو دامادوں پر اجتماعی زیادتی میں مدد دینے کے الزامات لگے ہیں . ١٥ سے ٧٥ روپے کی دیہاڑی پر بوڑھی عورت اور اسکی دو بہوئیں مقامی زمیداروں کے کھیت میں کپاس چننے کا کم کرتی ہیں .کبھی کبھار بڑے بچوں کو بھی مدد کے لئے ساتھ لے جاتی ہیں .
تاج مستوئی کی اس نہایت مختلف کہانی کے مطابق عبد الرشید اور مختاراں مائی کی شادی ٢٢ جون ٢٠٠٢ کی ایک شام انجام پائی. مولوی عبدالرزاق نے ان کا نکاح پڑھایا. اس نئے شادی شدہ جوڑے نے عبدالخالق کے کمرے میں ٣ راتیں گزاریں. " یہ انکا کمرہ تھا " عبدالخالق کے چھوٹے بھائی ٨ سالہ طارق محمد نے تین جھونپڑیوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ھوۓ کہا. . مستویوں کے مطابق جلدی میں کی گئی اس شادی کی وجہ سلمیٰ مستوئی نامی لڑکی کے ساتھ ہونے والی زیادتی تھی جو کہ مختاراں مائی کے بھائی نے کی تھی . بدلے میں گجروں کی لڑکی (مختاراں مائی ) کی لڑکی کا ہاتھ مستوئی کے ہاتھ میں دے دیا گیا تھا اور اسی وجہ سے زنا بالجبر کا پرچہ نہیں کٹایا گیا.
نومبر ٢٠٠٥ کی ایک اتوار مستویوں کی اس رہائش گاہ میں صرف بچے تھے . بوڑھی بیوہ اپنے بیٹوں سے ملنے جیل گئی ہوئی تھی جبکہ بہوئیں کپاس کے کھیت میں کام کرنے گئی ہوئی تھیں . اگلی صبح ہم واپس آئے تو بوڑھی عورت اور اسکی بہو کو اپنا منتظر پایا. وہ بنجر زمین پر ہم سے ملنے آگے بڑھیں ساتھ ہی انکا ایک پڑوسی رشتہ دار مرد بھی تھا . آنکھوں میں سرمہ اور ننگے پیر اس ٹھنڈی اور بے جان زمین پر .
تاج مائی غصّے کی زیادتی سے پھٹ پڑی اورمختاراں مائی کی تعریف و تحسین کرنے پر غیر ملکی میڈیا کو بد دعائیں دینے لگی . اس نے مختاراں مائی کی ایک طرفہ تشہیر پر سخت غصّے کا اظہار کیا .
"تم یہاں مجھ سے بات کرنے آئی ہو مگر میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی .یہاں میرے لئے کوئی انصاف نہیں. میرا حال برا ہے میرے بیٹے جیل میں ہیں .کوئی بھی حقیقت سننا اور بتانا نہیں چاہتا "
"تم کس قسم کے پولیس والے ہو جب ہماری چھوٹی سی بچی مختاراں مائی کے گھر کے آگے سے گزرتی ہے تو تم اسے وہاں سے بھگا دیتے" تاج مائی پولیس پر چڑھ دوڑی " کیا ہمارے گھر کی بچی کوئی دہشت گرد ہے "
آخر کار ہمارے مترجم نے اسکا غصّہ ٹھنڈا کیا اور اسے یقین دلایا کہ ہم اسکی بات سننے کے لئے آئے ہیں. تب اسکے سلوک میں نرمی آئی اور اس نے ہمیں گھر کے اندر بلایا . مردوں سے محروم اس گھر میں غربت ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی. یہ گھر اور گھرانہ مقامی میڈیا کی تصویر کشی سے یکسر مختلف تھا جو انہیں طاقتور اور اثر و رسوخ رکھنے والا زمیندار گھرانہ بتا رہا تھا. انکا سارا سرمایا دو لاغر بکریوں اور دومریل گایوں پر مشتمل تھا. فاقہ زدہ کتے اور بلیاں برآمدے میں گشت کر رہے تھے .مہمانداری کا کوئی تکلف نہیں تھا .نہ چائے پیش کی گئی نہ ہی کسی خاطر تواضع کے آثارنظر آرہے تھے. چولہے ٹھنڈے پڑے تھے. مختاراں مائی کے گھر کے برعکس اس گھر کی طرف نہ کوئی پختہ سڑک جا رہی تھی اور نہ بجلی انکے غیروں کو منور کر رہی تھی . تڑخى ہوئی مٹی نکاسی کے کنووں کو گھر کے باہر میدان سے الگ کر رہی تھی . تاج مائی کے کمرے کا دروازہ اندر اندر کمرے میں گرا ہوا تھا .
"میرے کمرے میں کوئی دروازہ نہیں کتے بلیاں رات کمرے میں گھومتے رہتے ہیں" تاج مائی نے بتایا .
تاج مائی کے بیٹے الله دتا کی بیوی مقصودہ نے اپنی چھوٹی بیٹی کو بازو سے پکڑا اور میرے سامنے کر دیا بیٹی کا بازو انتہائی پتلا اور جلدی بیماریاں سے بھرا ہوا تھا .
" کیا تمہارے پاس مجھے دینے کے لئے پیسے ہیں کہ میں اسکا علاج کرا سکون؟ اسکے علاج معالجہ کے اخراجات میری برداشت سے باہر ہیں" اس نے بیٹی کے پھٹے ہوے گرد آلود قمیض پکڑ کر دکھاتے ھوۓ کہا " ان چھیتڑوں کو دیکھو. میرے پاس اسکے نئے کپڑے خریدنے کے پیسے نہیں ہیں "
جس رات کے بارے میں مختاراں مائی کا کہنا ہے کے اسکے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی تھی اس رات تاج مائی ،اسکی چھہ بیٹیاں اور بہوئیں اور تمام پوتے پوتیاں گھر پر تھے. تاج مائی نے بتایا کہ نکاح کی اس تقریب میں مختاراں مائی کے باپ ، بھائی اور چچا نے شرکت کی. یہ ایک روایتی نکاح تھا گاؤں کی روایات کے مطابق اسلام کے ابتدائی دور کی طرح جس میں گواہ تو ہوتے ہیں مگر کوئی لکھت پڑہت
نہیں کی جاتی تھی .
مستویوں کے مطابق ٢٢ جون ٢٠٠٢ ایک وفات پا جانے والے مستوئی کی ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی سے شروع ہوا. گھر کے تمام بڑے فاتحہ خوانی کے لئے خیر محمد مستوئی کے گھر جمع ھوۓ. جو کہ تاج مستوئی کے گھر سے کافی فاصلے پر تھا .صرف مقصودہ بچوں کے ساتھہ گھر پر رکی . تب بیچ تپتی دوپہر اسنے سلمیٰ کی جسکی عمر ١٩ کے لگ بھگ تھی چیخیں سنیں. یہ چیخیں قریب گانے کے کھیتوں سے آرہی تھیں. مقصودہ نے گھر کی دیوار کے اوپر سے دیکھا تو سلمیٰ ،عبدل شکور کو درانتی کے قبضے سے مار رہی ہے . " میں نے دوڑ کرعبد الشکورکو پکڑا اور گھر کے ایک الگ کمرےمیں بند کر دیا " مقصودہ نے بتایا . کمرے کے تالے کا ٹوٹ کر دروازے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا . دیوار اور چھتوں کے شگاف سے غبار آلود روشنی کمرے کے اندر ہالے بنائے ھوۓ تھی . دیواروں پر زردی مائل سبز رنگ کیا ہوا تھا ایک کونے میں دیوار کے اندر تختے لگا کر الماری بنائی ہوئی تھی جس پر ایلمونیم اور مٹی کے برتن رکھے ھوۓ تھے . " تالا عبدالشکور کے فرار کی کوششوں سے ٹوٹا ہے " مقصودہ نے بتایا .روشندان کی اینٹیں ابھی تک ٹوٹی ہوئی تھیں ." اس نے روشندان کے سوراخ کو برا کرنے کے لئے اسکی اینٹوں کو توڑا اور فرارکے لئے راستہ بنادیا . مقصودہ نے اس بار بھی اسکی کوششوں کو ناکام بنادیا. مقصودہ نے اسے دوبارہ پکڑا اور کمرے میں دھکیل کر بند کر دیا اور گھر کے مردوں کو بلانے کے لئے گھر کے بچوں کو بھیجا.جب مرد گھر پہنچے تو مقصودہ نے بتایا کہ کس طرح اس نے عبدالشکور کو سلمیٰ کے ساتھ زیادتی کی کوششوں پر پکڑا . اسی دوران شکور کا باپ اور چچا نمودار ھوۓ اور شکور کو سچھوڑنے کا مطالبہ کیا . انکے ساتھ مولوی عبدالرزاق اور پولیس بھی تھی. شکور کے باپ ، بھائی اور چچا نے انکی منت سماجت کی اور زور دیا کہ شکور کے خلاف پرچہ نہ کٹایا جائے. ایسا نہ کرنے کے لئے مستویوں نے عبدالخالق کے لئے شکور کی بہن کا رشتہ مانگ لیا . "شکور نے ہماری بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی جسکی وجہ سے ہم پریشان تھے". تاج مائی نے بتایا .
مختاراں مائی اپنے گھر والوں کے ساتھ لائی گئی اور شکور کو ہم نے پولیس کے حوالے کر دیا .عشاء کے وقت عبدالخالق اور مختاراں مائی کا نکاح پڑھایا گیا . "کسی نے بھی نکاح نامہ نہیں بھروایا صرف گواہوں کو جمع کر لیا گیا اور پرانی روایات کے مطابق نکاح ہوگیا " مقصودہ نے بتایا . مستوئی خواتین کے مطابق مختاراں مائی نے عبدالخالق کے ساتھ اسکے کمرے میں تین راتیں گزاریں. عروسی کمرے کا فرش سخت زمین کا تھا. دوسرے کمروں کی طرح اس کمرے میں بھی زردی مائل سبزرنگ کیا ہوا تھا . دیواروں اور چھتوں میں تختے نصب کر کے الماری اور دوچھتی بنائی ہوئی تھی . کھڑکیوں پر لوہے کی جالیاں لگی ہوئی تھیں. کمرے کے اندر جھانکا تو تاج مائی کی دو کنواری بیٹیوں کو بیٹھے دیکھا . غیر اور انجان مردوں (پولس والوں )کی نگاہوں سے بچنے کے لئے وہ کمرے کے اندر چھپی بیٹھی تھیں اور ہمیں کھڑکی کی جھریوں سے دیکھہ رہیں تھیں .
"نکاح کے ساتھہ ہی ہمارا جھگڑا ختم ہوگیا " ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے خاندان اب ایک شادی کی وجہ سے قریب آگئے ہیں اس لئے ہمارے درمیان اب کوئی رنجش نہیں ہونی چاہیے .
لیکن اس مبینہ شادی کے بعد ایک نیا جھگڑا کھڑا ہوگیا . مولوی عبدالخالق، مختاراں کا باپ اور بھائی ہمارے گھرآئے اور عبدالشکور اور سلمیٰ کے مسئلہ کوبنیاد بنا کر جھگڑنے لگے . مختاراں مائی کا طبی معائنه کرایا گیا. طبی معائنه پر جنسی تعلق کے ثبوت پائے گئے اور پولیس مستویوں پر ٹوٹ پڑی. پولیس نے مخالف پارٹی کے ایما پر ایف آئی آر درج کی اور ہمارے لوگوں کو حراست میں لے لیا . تاج مائی اور اسکی بیٹی سلمیٰ کو سب سے پہلے حراست میں لیا گیا. سلمیٰ کا طبی معائنه ہوا جسکے نتیجے سے ہمیں لاعلم رکھا گیا . بعد ازاں ماں اور بیٹی کو مظفر نگر میں بری جیل منتقل کر دیا گیا .
میروالا میں در حقیقت مختاراں مائی کے گھرانہ کا کہیں زیادہ اثر و رسوخ تھا . انکے اس علاقے (تحصیل ) کے سب سے بڑے، مالدار اور طاقتور قبیلے جتوئی کی پشت پناہی حاصل تھی .ساتھ ہی ساتھ علاقے کی ایک نہایت اثر و رسوخ رکھنے والا شخصیت کی سرپرستی اس گھرانے کو حاصل تھی .ا اور وہ شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ علاقے کی سب سے بڑی مسجد کے خطیب و پیش مام مولوی عبدالرزاق جتوئی کی تھی. گرفتاریاں ہوتی رہیں تا آنکہ ١٤مستوئی مرد عدالت میں اپنی پیشی کا انتظار کرنے لگے.
" ہمارے ساتھ ظلم و جبر کا خوفناک مظاہرہ ہوا ہے." تاج مائی پھر بولی . "اصلی گناہ گار وہ لوگ تھے. انکے لڑکے نے ہماری بیٹی کے ساتھہ زیادتی کی لیکن ہر کوئی ہمیں ہی الزام دے رہا ہے. پولیس کو نی تفتیش کرنی چاہیے اور علاقے کے سارے لوگوں کو شامل تفتیش کرکے سچائی کا پتا چلانا چاہیے"
" مختار مائی کے گھر والے آئیں میں انھیں بتائی ہوں کہ ہوا کیا ہے. اگر اسکے ساتھہ یہ سب کچھ ہوا بھی ہے تو یہ کسی عورت ہے جو ہر کسی کو اس واقعہ کے بارے میں بتاتی پھر رہی ہے. حتیٰ کے امریکا تک پہنچ گئی "
تاج مائی کا وقت اب زیادہ تر قرآن پڑھتے اور مقامی زمینداروں کی کپاس چنتے اور گندم کی کٹائی کرتے ہوے گزرتا ہے. " میں روزانہ دوسروں کے کھیتوں میں کام کرتی ہوں . جو کماتی ہوں وہ سارا خرچ ہوجاتا ہے اور بچتا کچھ نہیں. مختاراں مائی سے پوچھیں کے ہم لوگ کس طرح کے زمیندار ہیں جو دوسروں کے کھیتوں میں کام کر رہے ہیں اور ہمارے مرد جیلوں میں سڑ رہے ہیں " تاج مائی گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی . " مختاراں مائی والوں کو احساس نہیں ہے کہ ہم کتنے پریشان ہیں.گھر میں کوئی مرد نہیں ہے صرف چھوٹے بچے ہیں. میں ایک غریب عورت ہوں جو پورے گھر کا خرچ چلا رہی ہے"
اس انتہائی تلخ مستوئی عورت نے مولوی عبدالخالق اور اس سارے قضیہ میں اسکے کردار کے خلاف اپنی شدید نفرت کا اظہار کیا. مستوئی ، مولوی عبدالخالق کو اس سارے قضیہ کا سب سے اہم کردار مانتے ہیں. " عبدالرزاق اس سارے فساد کی جڑ ہے " مقصودہ نے کہا ." وہ صرف پیسے کی وجہ سے اس سارے قضیہ میں ملوث ہو گیا . اگر اس نے٢٨ جون ٢٠٠٢ کو
جمعہ کے خطبے میں اس مبینہ اجتماعی زیادتی والے معاملے کو نہ بھڑکایا ہوتا اور غلط طور پر مختاراں مائی کے گھر والوں کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو پولیس شاید اس کیس کو درج ہی نہ کرتی. اس نے نہ صرف مختاراں مائی کے باپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اجتماعی زیادتی کا پرچہ کٹایا جائے بلکہ پرچہ کے مندرجات بھی خود ہی لکھوائے "
مستویوں نے اگست ٢٠٠٢ میں عدالت کو بتایا کہ عبدالرزاق پہلے سے ہی انکے خلاف انتقامی جذبات رکھتا تھا کیونکہ مستویوں نے عبدالرزاق کو انکی زمینوں پر قبضہ کرنے سے روک دیا تھا. اس چارپائی سے جہاں پر تاج مائی نے اپنا غصّہ اگلا تھا، مختاراں مائی کا گھر کپاس کے کھیتوں کے پار نظر آرہا تھا . سر کو ذرا سے گھما کر دیکھنے پر مختاراں مائی کا اسکول کا ایک حصّہ بھی دیکھا جاسکتا تھا.جو کہ نیلاہٹ مائل سرخ رنگ سے دمک رہا تھا . مستوئی بچوں کے لئے وہ اسکول ایک ممنوعہ مقام تھا. مستوئی بچیاں اپنے گھر پر ہی رہتی تھیں . "مختاراں مائی کسی مستوئی بچی کو اسکول میں داخلہ نہیں لینے دیتی ہے. ہم اپنی بچیوں کو اسکے اسکول بھیجتے بھی نہیں. کون چاہے گا کہ مستوئی بچیاں اس اسکول میں پڑھیں. ہمارے بچوں کو تو وہ پہلے ہی منع کر چکے ہیں." تاج مائی نے بتایا. " میرا آٹھ سالہ بتا طارق مختاراں مائی کے لڑکوں کے اسکول میں کچھ مہینے گیا مگر نکال دیا گیا. مختاراں مائی کے بھتیجے نے اسے پتھر مارے اور دھمکی دی کے آئندہ یہاں کبھی نہیں آنا"
اپنی اس ملاقات کے ٧ مہینے بعد مجھے پتا چلا کہ جب میری ان لوگوں سے ملاقات ہوئی تھی وہ سارا گھرانہ ٣ دن کے فاقہ سے تھا . اس کہانی پر جس پر کسی نے سوال نہیں اٹھائے تھے میرے سامنے کھلنے لگی تھی . میڈیا کے انکی دولت اور اثر و رسوخ کے دعووں کے برعکس یہ خاندان ان سب خاندانوں سے زیادہ غریب تھا جو کہ میں نے آج تک دیکھے ہیں. دونوں اطراف کی کہانیوں میں کئی تضادات تھے لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں جب بھی کسی حادثہ کے بارے میں تحقیق ہوتی ہے تضادات تو سامنے آتے ہی ہیں. ٢٠٠٦ میں ایک انٹرویو میں عبدالرزاق نے اعتراف کیا کہ شکایت کو اس نے لکھا تھا مختاراں مائی کی جانب سے . ایک پولیس والے نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر یہ انکشاف کیا کہ عبدالرزاق کو پولیس نے کہا تھا کہ لڑکی کا باپ ان الزامات کو عائد کرنے سے ہچکچا رہا ہے لہٰذا مختاراں کے باپ کو وہ تیار کرے. مولوی عبدالرزاق کی اس سارے معاملے میں دلچسپی اور بھاگ دوڑ عدالت میں بھی کئی بار زیر بحث آئی اور اگست ٢٠٠٢ میں ہائی کورٹ میں بنیادی نوعیت کی بحث بنی.جسکے باعث ڈھائی سال میں ٦ میں سے ٥ ملزمان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے گئے.
٢٢ جون ٢٠٠٢ کے واقعہ کے بعد مختاراں مائی کے غم میں غصّہ بھی شامل ہو گیا جب اسکے بھائیوں نے اس سارے معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی . " میرے بھائی حضور بخش نے کہا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئیں تو میں خود کشی کر لوں گا." مختاراں مائی نے بتایا . اسکے مطابق اس کے باپ اور چچا نےاسے تنبیہ کی کہ مستوئی برادری ہمیں مار ڈالے گی . صرف اسکی ماں ہی اسکی طرف تھی . اس واقعہ کے ٦ دن تک مختاراں مائی اپنے کمرے میں بند رہی گھٹن اور گرمی اسکی اذیت میں اضافہ کرتے رہے. ان ٦ دنوں کے بارے میں مولوی عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مدرسے کے طالبعلموں کو قران پڑھا رہا تھا .یہ مدرسہ میروالا سے ٩ کلومیٹر دور واقع تھا . مولوی عبدالرزاق کا اصرار تھا کہ وقوعہ کے ٦ دنوں تک اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ جس اجتماع کو وہ ٢٢ جون کی رات چھوڑ کر گیا تھا. وہ مبینہ طور پر آنکھہ کے بدلے آنکھہ کے تحت مختاراں مائی کی اجتماعی زیادتی کی صورت میں اختتام پذیر ہوا باوجود اسکی کوششوں کے کہ کسی طرح فریقین کو صلح پر راضی کیا جاسکے.
دوسری طرف مولوی عبدالرزاق کے بھائی حاجی الطاف نے عدالت کو بتایا کے اس نے چار آدمیوں کو مختاراں مائی کو گھسیٹتے ھوۓ قریب مکان میں لیجاتے ھوۓ دیکھا اور دیکھا کہ کس طرح مختاراں مائی مجنونہ انداز میں اپنی عزت بچانے کے لئے منت سماجت اور اہ و زاری کرتی رہی حاجی الطاف نے حلفیہ بتایا کہ ایک گھنٹے بعد اسی گھر سے پھٹے کپڑوں میں برآمد ہوئی.
تاہم یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں اور عدالت عالیہ نے بھی یہ نوٹ کیا کہ " مولوی عبدالرزاق اپنے بھائی حاجی الطاف کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھا اور حاجی الطاف نے اس سارے قصّے سے اپنے بھائی کو لاعلم رکھا. اس بات پر عدالت میں بحث ہوئی کہ کیوں حاجی الطاف نے اس گھناونے جرم سے اپنے اس بھائی کو لا علم رکھا جو کہ مدعی کی طرف سے بطور مصالحت کار پنچایت میں پیش ہوا اور جب اسکی یہ تجویز منظور نہیں ہوئی کہ فریقین میں شادیوں کے ذريعے اس جھگڑے کو ختم کیا جائے تو وہ پنچایت چھوڑ کر چلا گیا."
حاجی الطاف نے کبھی بھی اپنے اس عمل کی وضاحت نہیں کی کہ اسنے ٢٢ جون کو ہونے والے واقعہ سے اپنے بھائی کو کیوں لاعلم رکھا.
میری مولوی عبدالرازق سے اگست ٢٠٠٥ میں ملاقات ہوئی. وہ مدرسہ کے استقبالیہ کمرے میں داخل ہوا جو ندی کے بالکل مقابل تھا جہاں مدرسہ کے طالبعلم جمع تھے .مولوی عبدالرزاق سیاہ آنکھوں والا ایک نرم مزاج شخص نظر آیا.اسکی داڑھی لمبی اور سرمئی تھی. وہ کمرے میں آیا اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا.اسکا چہرہ تاثرات سے یکسر خالی ہوگیا جب اسنے وقوعہ کے بارے میں بتانا شروع کیا. " میں مستوئی کے غیر اس وقت گیا جب حضور بخش (مختاراں کا بھائی ) میرے پاس یہ شکایت لے کر آیا کہ مستویوں نے میرے بھائی شکور کو زبردستی اغوا کر لیا ہے. جب میں وہاں پہنچا تو مستویوں نے بتایا کہ شکور کو سزا ملنی چاہیے اس نے ہماری بچی کے ساتھ زیادتی کی ہے. انہوں نے مجھہ سے میری رائے کے بارے میں استفسار کیا. میں نے کہا کہ اگر یہ درست ہے تو شکور کو تمہاری بیٹی کے ساتھہ شادی کرنی ہو گی . جب میں نے یہ تجویز انکے سامنے رکھی تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا . اور کہا کہ جو کچھ ہماری بہن کے ساتھہ ہوا ہے وہ سب کچھ اسکی بہن کے ساتھہ ہونا چاہیے . جب انہوں نے میری تجویز کو مسترد کر دیا تو میں وہاں سے چلا آیا." عبدالرزاق نے بتایا کہ اس پنچایت میں ٢٠٠-٢٥٠ لوگ شریک تھے ." جب میں وہاں سے چلا گیا تو وہ پنچایت بھی ختم ہو گئی. بعد میں مستویوں نے مختاراں اور اسکے چچا کو طلب کیا. مختاراں کا چچا اسے لیکر وہاں پہنچا تو انہوں نے اسکے ساتھ اجتماعی زیادتی کی . اس وقت میں وہاں موجود نہیں تھا" میں نے مولوی عبدالرزاق سے پوچھا کہ اسے اس جرم کے بارے میں کب اطلاع ملی. " مجھے ایک ہفتے بعد پتا چلا " اس نے جواب دیا . عبدالرزاق کے مطابق اسے مطلع کرنے کوئی نہیں آیا. عبدالرزاق وہ پہلا شخص تھا جسے شکور کو پکڑنے اور بند کرنے کے بارے میں بتایا گیا مگر کسی نے بھی اسے اس سانحے کے بارے میں نہیں بتایا؟ نہ ہی مختاراں مائی کے گھر والوں نے اور نہ ہی کسی اور نے . عبدالرزاق کے مطابق اسے جمعے کی صبح ایک مستوئی کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ مختاراں مائی کے ساتھہ آنکھہ کے بدلے آنکھہ کے قانون کے تحت اجتماعی زیادتی ہوئی ہے . تاہم عبدالرزاق نے اس مستوئی کا نام پتانے سے انکار کر دیا.



یہ اقتباس برونن کرن کی کتاب "ان ٹو دی مرر " سے لیا گیا ہے . برونن کرن ،اسلام آباد میں قیام پذیر مواصلاتی مشیر ہیں. انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں اے ایف پی کی نامہ نگار کے طور پر ٢٠٠٢ سے ٢٠٠٤ تک کام کیا تھا. ساتھ ہی ساتھ افغانستان میں اقوام متحدہ کی ترجمان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں. انہوں نے مختاراں مائی کی مبینہ زیادتی پر ایک چشم کشا کتاب "ان ٹو دی مرر " لکھی. یہ کتاب پاکستان میں قبائلی روایات اور طرز زندگی پر روشنی ڈالتی ہے اور کہانی کے دونوں اطراف کی تفاصیل معلوم کر کے گاؤں کی عورت سے اجتماعی زیادتی کے پیچھے چھپے حقائق دریافت کرنے کی کوشش کرتی ہے.


حقوق نسواں ....دجال کا سب سے کامیاب حربہ -١

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک نوجوان کو علم حاصل کرنے کا شوق ہوا. ساتھہ ہی یہ خواھش بھی دل میں جاگی کہ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے علم سے اکتساب علم کرے. یہ جستجو اسکو شہروں شہروں گھماتی رہی کہ کسی طرح سب سے بڑے عالم کا پتا چل جائے. کافی کوششوں کے بعد اسے ایک عالم کے بارے میں پتا چلا کہ ان سے بڑا عالم اس وقت پوری دنیا میں کوئی اور نہیں. مگر یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ اس عالم نے اب پڑھانا بند کر دیا ہے . تب اس نے عالم سے ملنے اور راضی کرنے کا ارادہ کیا. نوجوان عالم کے پاس پہنچا اور اپنی غرض بتائی. عالم نے کہا کہ کسی وقت میں اپنا علم لوگوں کو دیا کرتا تھا لیکن اب لوگ سطعى سوچ کے مالک اور کم ظرف ہو گئے ہیں . ان سے علم سنبھالا نہیں جاتا اس لئے میں نے اب درس و تدریس کا سلسلہ بند کر دیا. نوجوان نے اپنی پوری کوشش کر کے عالم کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ اس نوجوان کو پڑھاے. لیکن اس عالم نے بھی ایک شرط رکھی کہ تمہیں پہلے میرے امتحان پر پورا اترنا ہوگا اور اپنے آپ کو علم کے لائق ثابت کرنا ہوگا پھر ہی تمہاری تدریس شروع ہوسکے گی. نوجوان اس پر راضی ہو گیا اور عالم کے ساتھہ رہنے لگا. ایک دن عالم اور نوجوان ایک بازار سے گزرے تو دیکھا کہ ایک طاقتور مرد ایک کمزور سی عورت کو بری طرح مار رہا ہے. یہ منظر دیکھہ کر عالم نے اس نوجوان سے پوچھا کہ اگر تمہیں طاقت اور اختیار دیا جائے تو تم کیا کرو گے. نوجوان نے جذبات میں آکر کہا کہ میں اس مرد کو اس بزدلی اور حیوانگی کا مزہ چکھاؤں گا. عالم تعجب سے بولے بغیر کسی تحقیق کے ؟ پھر اس نوجوان سے کہا "آؤ اس واقعہ کا کھوج لگاتے ہیں " پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ عورت ،مارنے والے مرد کی بیوی ہے . اسکے ایک غیر مرد سے ناجائز تعلقات تھے اور اس مرد کا اس عورت کے گھر آنا جانا تھا. محلے والے اور اس عورت کی ساس اسکے اس عمل سے تنگ تھے. یہ عورت اپنی ساس سے بڑا ہی خار کھاتی تھی . ایک دن اس عورت کا شوھر شہر سے باہر گیا ہوا تھا تو اس عورت نے اپنے یار کو رات کے وقت بلا لیا. عورت کی ساس سو رہی تھی کسی وجہ سے اسکی آنکھہ کھلی تو اس نے اپنی بہو کو اس عمل میں ملوث پایا تو چیخنے چلانے اور بہو کو گالیاں دینے لگی. شور شرابے سے تنگ آکر اس عورت نے اپنے دوست کی مدد سے اپنی ساس کا گلا گھونٹ کر مار دیا. لیکن یہ شور شرابہ محلے والوں سے چھپا نہیں رہ سکا اور انہوں نے اس عورت اور اسکے یار کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا صبح جب اس عورت کا شوھر آیا تو اسے سارا ماجرا سنایا گیا تو غصّے میں اسکا شوھر اسے پیٹ رہا ہے. ساری بات سن کر عالم نے معنی خیز نگاہوں سے اس نوجوان کو دیکھا اور کہا "اب تو تم کو سمجھہ میں آگیا ہوگا کہ میں نے اپنا علم لوگوں میں منتقل کرنا کیوں بند کر دیا ہے. تم اس علم کے اہل نہیں ہو " یہ بات کہ کر عالم اپنے راستے پر چل پڑا.
یہ واقعہ سنانے کے دو مقاصد تھے ایک تو انسانی فطرت کی کمزوری اور جلد بازی کی طرف اشارہ اور دوسرا جدید دور میں اس کمزوری کا گھناونا استعمال . جسے دجالی تہذیب مسلمان معاشروں کے تار و پود بکھیرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے حقوق نسواں کی تنظیموں اور این جی اوز کا بہت چالاکی سے استعمال کیا جا رہا ہے. جس کی طرف میں نے تقریباً سال بھر پہلے اپنے مضمون میں اشارہ کیا تھا . حقوق نسواں کی تنظیموں کا کردار خاص طور پر نہایت گھناونا ہے . حقوق نسواں کے پلیٹ فارم سے اس ملک کی عورتوں جس طرح سے بے حیائی ، فحاشی اور عریانیت کے فروغ کا کام لیا جا رہا ہے . وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے. بیرونی مدد اور تعاون سے ان تنظیموں نے اپنے کئی اہداف حاصل کر لئے ہیں. مغربی ملکوں کا دباؤ اور انکی پشت پناہی اس ضمن میں بڑی معنی خیز ہے. خاص طور پر گزشتہ عشرے میں جس طرح سے یہ معاشرے اور پاکستانی قوانین پر اثر انداز ھوۓ ہیں وہ غورو فکر کا مقام رکھتا ہے. آج انکی پشت پناہی ہے کہ فرزانہ باری ،عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی جیسی کنجریاں کسی بھی وفاقی وزیر سے کم طاقتور نہیں ہیں. آج انکی این جی اوزکسی بھی رکاوٹ کے بغیر محض چند تکون کی خاطر معاشرے میں اخلاقی انارکی پیدا کر رہی ہیں. لڑکیوں کی جذباتی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انکو گھر بھاگنے میں مدد دینا اور ایک انتہائی آزاد ماحول فراہم کرنا ، گھریلو حالت سے پریشان شادی شدہ عورتوں کو طلاق کا راستہ دکھانا (جسکی طرف معروف سماجی کارکن محترمہ شمیم کاظمی نے بھی اشارہ دیا )، اپنی سرپرستی میں چلنے والے اسکولوں کی بچیوں کو انتہائی آزاد اور بے باک تتلیوں میں تبدیل کر دینا.( اپنے میڈیکل کی تعلیم کے دوران مجھہ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں اپوا اسکول کی طالبات صرف " کمپنی " دینے کے لئے آتی تھیں اور ناقابل یقین کہانیاں چھوڑ جاتی تھیں) حقوق نسواں اور دیگر این جی اوز کا معاشرے پر ایک ناقابل تردید اثر ہے.
بات دجالی تہذیب کی اور انسانی فطرت کی ایک خاص کمزوری کی ہو رہی تھی جس کے ضمن میں میں نے شروع میں ایک واقعہ سنایا تھا کہ کس طرح انسان اپنے سامنے ہونے والے واقعات سے اس طرح متاثر ہوتا ہے کہ واقعات کے پیچھے چھپے عوامل کے بارے میں جاننے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتا. اگر کہیں کسی عورت یا کمزور کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہو تو فطری طور پر ہر شخص اس کی مذمت کرتا ہے بغیر واقعہ کی حقیقت جانے. یہ بات مجھے سپریم کورٹ کا فیصلے سے جو اس نے مختاراں مائی کیس میں دیا جان کر یاد آئی. سپریم کورٹ سے پہلے ہائی کورٹ بھی ٦ میں سے ٥ ملزمان کو رہا کر چکی ہے اور ایک ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے چکی ہے. اسی فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا اور ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کی رہائی کا حکم دے دیا . یہ بات مختاراں مائی سے زیادہ حقوق نسواں کی تنظیموں کے لئے دھچکا ثابت ہوئی . کیونکہ انہوں نے ہی اس اشو کو کھڑا کیا اور دنیا بھر میں ایک طوفان بدتمیزی مچایا کہ جیسے پاکستانی مرد کے پاس عورت کی آبروریزی کے علاوہ کوئی کام نہیں. دنیا بھر میں (مغربی ممالک میں جہاں سے ان تنظیموں کو فنڈ ملتا ہے) مختاراں مائی کو ظلم کے خلاف بغاوت اور خود کو اس بغاوت کے خلاف قیادت کے طور پر پیش کیا. لیکن اس سارے عمل کے پیچھے کچھ اور مقاصد بھی تھے جیسے وومن ایمپاورمنٹ لا اور حدود آرڈینینس میں ترمیم بھی شامل تھی جنہیں بڑی خوبی سے انجام دیا گیا. بال کی کھال نکالنے والے میڈیا کا رول اس معاملے میں خاص طور پر انتہائی شرمناک تھا. سارے معاملے پر ایک خاص نقطہ نظر کو فروغ دیا گیا اور پورے ملک میں مبینہ زیادتی کے خلاف جذبات پیدا کے گئے. یہ اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی سے زیادہ مجرمانہ طرز عمل تھا جس کے کچھ خاص قسم کے نتائج نکلے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے وہ زیادہ دور نہیں جاسکتا لیکن میں اسے دجالی تہذیب کی ایک بہت بڑی کامیابی سمجھتا ہوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے باوجود عوام کی ایک بڑی اکثریت مختاراں مائی کو مظلوم قرار دے رہی ہے اور یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کس طرح زیادتی کے غلط الزامات لگا کر کوئی بھی عورت یا مرد فائدہ اٹھا سکتا ہے.اس ضمن میں برونن کرن کی کتاب "ان ٹو دی مرر " کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے جس نے سب سے پہلے اس واقعہ کی تحقیق کی اور اس گاؤں میں جاکر لوگوں سے واقعہ کے بارے میں استفسارات کیے. پوسٹ کے اگلے حصّے میں اس کتاب کے کچھ اقتباسات پیش کروں گا جن کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں. اور اگر آپ ان اقتباسات کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں دیکھیں گے تو ساری کہانی خود بخود سمجھ آجائے گی .

Monday, April 11, 2011

اف ! یہ بارہ سنگھا

بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ کیا لکھوں کہ آخر کار ایک معزز خاتون بلاگر کی وجہ سے ایک بہت اچھا موضوع مل گیا اور اس پر میں نے لکھنے شروع کر دیا . کام کافی محنت طلب تھا. بہت ساری چیزوں کو ایک جگه جمع کرنا اور ترتیب دینا پھر انکے حق میں یا خلاف دلائل پر سوچنا اور ڈھونڈھنا، مجھہ جیسے ایک عام آدمی کے لئے بہت مشکل کام ہے لیکن کسی طور میں دو ہفتے کی محنت شاقہ کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور مضمون تیار کر کے کمپیوٹر کے ڈیسک ٹاپ پر ہی محفوظ کر لیا اور خوش و خرم گھر روانہ ہوا .مگر یہ خوشی زیادہ پائیدار ثابت نہیں ہوئی . دوسرے دن جب میں نے آکر ڈیسک ٹاپ پر اپنا مضمون شایع کرنے کی نیت سے ڈھونڈا تو انکشاف ہوا کہ میل نرس نے اپنے تئیں صفائی کی اور "غیر ضروری" فائلز پر ہاتھہ صاف کیا جسکی زد میں میرا مضمون بھی آگیا ستم مزید اس پر یہ کیا کہ ری سائکل بن کو بھی صاف کر دیا . تب مجھ پر انکشاف ہوا اپنے اسکول ٹیچر کے فیوریٹ جملے کے پیچھے چھپی کیفیت کا ( اگر آپ بار بار استعمال ہونے والے جملے کو فیوریٹ کی کیٹیگری میں لانا پسند کریں تو ) وہ اکثر پڑھاتے ھوۓ انتہائی بیچارگی کی حالت میں ہم میں سے کسی کو کہا کرتے تھے کہ " ایک کدال لا ...پہلے اسے اپنے سر پر مار اور پھر میرے سر پر "... ہماری کلاس میں ایک سے بڑھ کر ایک "فنکار" اور "نابغہ روزگار" شخصیت ہوا کرتی تھی. ایک دن جب یہ جملہ دوہرایا گیا تو ایک "فنکار" چپ نا رہ سکا اور جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑا. یعنی جب ہمارے استاد نے کدال لانے کا مشورہ دیا تو ہمارے فنکار نے اسکے استعمال کے حوالے سے ترتیب میں تبدیلی کا مشورہ دیا اور کہ اٹھا کہ "سر پہلے آپ ". اس شوخی کی اس غریب فنکار کیا قیمت ادا کرنی پڑی وہ ایک الگ داستان ہے. تذکرہ میرے مضمون کے ضایع ہونے کا ہو رہا تھا اور میں کہیں اور چلا گیا. بلاگنگ کا اک نقصان یہ بھی ہے کہ آپکو اپنے بلاگ کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے . اس دنیا میں روزانہ لکھنا بھی اچھا نہیں اور بہت کم لکھنا بھی ٹھیک نہیں . دونوں صورتوں میں گمان یہ کیا جاتا ہے کہ شاید آپکی اوپر کی منزل خالی ہے یا منزل اپنی جگه سے ہلی ہوئی ہیں. یہ الزام کوئی بھی اپنے سر لینا پسند نہیں کرتا . لہٰذا یہ پوسٹ حاضر خدمت ہے .
آج کا مضمون ذرا ہٹ کے ہے اور اسکا مقصد صرف اور صرف "ہٹانا" ہے اگرچہ مقصد عامیانہ سا ہے مگر فوائد بے حد و حساب ہیں . اسکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے کچھ مظلوم اور زبانی طور پر مضروب لوگوں کی دل پشوری ہوجائے گی .زبانی طور پر مضروب ؟ چونک گئے نا ...شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی اردو بلاگنگ ورلڈ کی سیر نہیں کی - بلاگستان میں ہر طرح کے لوگ ہیں ، مختلف زبانیں بولنے والے ، مختلف نظریات رکھنے والے.ان میں کچھ اسپیشل کردار ہیں لیکن ایک کریکٹر تو بہت ہی اسپیشل ہے. اردو بلاگرز سمجھ گئے ہونگے کہ میرا اشارہ بارہ سنگھا کی طرف ہے .بارہ سنگھا ؟؟؟ آپ سوچ رہے ہونگے کہ بارہ سنگھا اور بلاگنگ ؟؟؟ بات غیر شاعرانہ ہونے کے ساتھ بے تکی بھی ہے . مگر ٹھیریے !!! اس بات کو مضحکہ خیز قرار دینے سے پہلے اردو بلاگنگ دنیا کا ایک چکر لگا لیجئے آپکو بات خود بخود سمجھ میں آجائے گی .
فائنل ائیر ایم بی بی ایس میں ایک بار ہمارے پروفیسر نے ہمیں زبانی امتحان پر کچھ ٹپس دیتے ھوۓ کہا تھا کہ میڈیکل سائنس میں آپکو بات دلیل سے کرنی پڑتی ہے. گدھا اگر آپکے سامنے آجاتے تو بھی آپ یہ کہ کر نہیں بچ سکتے کہ یہ گدھا ہے بلکہ آپکو بتانا پڑتا ہے کہ یہ گدھا کیوں ہے گھوڑا کیوں نہیں ...

اسی اصول کو سامنے رکھتے ھوۓ ہم آج کے مضمون میں بارہ سنگھا کے بارے جاننے کی کوشش کریں گے . تحقیق اور تفتیش کی ابتدا میں مجھہ پر یہ انکشاف ہوا کہ بارہ سنگھا جنگلوں میں پایا جاتا ہے اور شکاریوں کا مرغوب جانور ہے. اس تکلیف دہ انکشاف نے کچھ سوالات کو بھی جنم دیا کہ اگر بارہ سنگھا جنگلی جانور ہے تو یہ شہر میں کیا کر رہا ہے ؟ کیوں کھلےعام پھررہا ہے ؟ یہ سوال تا حال حل طلب ہے. بارہ سنگھا ہرن کی نسل سے تعلق رکھتا ہے.اس کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں اس حقیقت کی دریافت نے کچھ نئے سوالات کو جنم دیا کہ اگر اسکی چار ٹانگیں ہوتی ہیں اور کوئی ہاتھہ نہیں تو وہ کمپوٹرپر کیسے کام کرتا ہے اور کی بورڈ کیسے استعمال کرتا ہے ؟ سب سے اہم سوال جس نے مجھے سب سے زیادہ پریشان کیا وہ یہ تھا کہ قصائی لوگ اسکی آگے کی دو ٹانگوں کو دستی کیوں کہتے ہیں ؟ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے جب ہم نے کراچی کے مشہور قصاب اجمل پہاڑی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ دستی کا ذائقہ رانوں سے مختلف ہوتا ہے لہٰذا قصاب کمیونٹی اس کو دستی کہتے ہیں اپنی سہولت کے لئے.انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تمام جانوروں کے اعضاء میں سب سے مہنگی چیز بارہ سنگھا کا بھیجا ہے ایک ہزار سریوں کو توڑنے پرکسی ایک میں یہ بھیجا نکلتا ہے. علاوہ ازیں مجھے اس کے نام پر بھی اعتراض ہوا کہ اسے بارہ سنگھا کیوں کہتے ہیں ؟ کیا کسی نے کبھی اس کے سینگ گننے کی کوشش کی ہے ؟ دس سینگھا یا سولہ سینگھا کیوں نہیں کہتے ؟ میں نے جب بھی اس کے سینگ گننے کی کوشش کی ہے تعداد مختلف آئ ہے. میں نے ایک سنیاسی باوا سے اس مشکل کا ذکر کیا تو وہ بولے " بیٹا!!! تو دل کا اندھا ہے. دل کی آنکھ کھول کر دیکھ اس کے سینگ بارہ ہی ہیں " میں نے لجاجت سے پوچھا " بابا جی ! مجھے دل کی آنکھہ کھولنے کا طریقہ بتائے " سنیاسی باوا کا یہ سنتے ہی پارا چڑھ گیا .چنگھاڑتی ہوئی آواز میں بولے " مورکھہ! عمر بھر کی تپسیا ایسے ہی حاصل کرنا چاہتا ہے. جا جاکر مزار کے مسٹنڈے متولی سے ١٠٠ روپے کا پوا لے کر آ اور پھر دیکھہ دل کی آنکھ کیسے کھلتی ہے" میں دانت پیس کر دل ہی دل میں سنیاسی باوا کی ایسی کی تیسی کی اور وہاں سے چلا آیا.
پھر مجھے ایک مضمون ملا جس کا عنوان تھا "یوریکا ! میں نے پا لیا " میں اس مضمون سے بے حد متاثر ہوا کیونکہ اس میں وجدان حاصل کرنے کا نہایت سہل طریقہ بتایا گیا تھا . آپکو صرف ایک باتھہ ٹب چاہیے جس میں بیٹھہ کر آپ نے غور و فکر کرنی ہے . اس میں خاص خیال یہ رکھنا ہوتا ہے کہ وجدان کہیں آپکو مکمل طور پر مغلوب نہ کر لے اور آپ ٹب سے اٹھہ کر کپڑے پہنے بغیر مارکیٹ پہنچ جائیں اور آپکی شیم شیم ہوجائے.وجدان سے مغلوبیت کا یہ اندازمجھے خاص طور پر پسند نہیں کیونکہ گزشتہ کچھ سالوں میں اپنی زبان کی وجہ سے کئی دشمن بنائے ہیں جو مجھہ پر کسی ایسے ہی وجدان کے غلبے کا انتظار کر رہے ہیں.تو جناب میں ٹب میں بیٹھہ گیا شام سے رات ہوگئی مگر کچھ بھی نہیں ہوا بیوی بچے رونے لگے اور دروازہ پیٹنا شروع کر دیا نا چار ٹب سے باہر نکلنا پڑا. سمجھ میں یہ آیا کہ وجدان حاصل کرنے کا یہ طریقہ قدیم یونانی فلاسفرز کے لئے مخصوص ہے. میں نا تو یونانی ہوں اور نا ہی فلاسفر البتہ کچھ کچھ قدیم ہوتا چلا جا رہا ہوں لیکن مجرد اتنی قدامت کافی نہیں ہے .تب میں نے وجدان اور تیسری آنکھہ کو سنجیدگی سے گولی مارنے کا تہیہ کیا اور اردو بلاگنگ دنیا میں موجود سنسنی خیز معلومات سے استفادہ کرنے کا ارادہ کیا .
اردو بلاگ پر ڈھونڈا تو بارہ سنگھا پرکئی مضمون نظر سے گزرے .ان میں بچوں کے مشہور شاعر جناب سلیم فاروقی صاحب کی نظم "بارہ سنگھا کی فریاد " خاص طور پر قابل ذکر ہے. جس میں بارہ سنگھا کو ایک نصیحت کی گئی تھی کہ اپنے سینگوں پر نا اترایا کر یہ تجھے کسی جھاڑی میں پھنسا سکتے ہیں.بارہ سنگھا نے چونکہ ہر جگہ سینگ پھنسائے ہیں. اس لئے خرم ابن شبیر کا بلاگ بھی متاثر ھوۓ بغیر نہیں رہ سکا اور وہ پوچھ بیٹھے " آپ کون خواہ مخواہ ". حیران و پریشان کے جناب ضیاء الحسن خان صاحب بھی اسکے ستائے ھوۓ ہیں اپنے ایک نہایت عمدہ مضمون " جہاں خطرہ محسوس کرتا ہے اپنا روپ اور نام تک بدل لیتا ہے " میں انہوں نے اسکی چالاکی اور حاضر دماغی کا تذکرہ کیا ہے.
بارہ سنگھا پر تازہ تحقیق "تنگ نا کر اوے خانہ خرابہ" اپنے خواہ مخواہ جاپانی صاحب کی ہے جنہوں نے بارہ سنگھا پر کافی وقت صرف کیا ہے. اپنی تحقیق میں جناب جاپانی صاحب نے بارہ سنگھا کی شخصیت کے ایک خاص پہلو کا بڑی خوبصورتی سے احاطہ کیا ہے اور بڑی مفید معلومات فراہم کی ہیں. بارہ سنگھا پرعلامہ اقبال کا یہ مشہورشعر تو ضرور اپنے پڑھا ہوگا کہ :

اپنے سینگوں پراب نا پچھتا اے بارہ سنگھا
یہ تو ہیں ہی تجھےجھاڑی میں پھنسانے کے لئے

بلاگستان کے اس بارہ سنگھا کی شخصیت کا سب سے پریشان کن پہلو اسکا انتہائی جارحانہ رویہ ہے . بغیر کسی اشتعال انگیزی کے سینگ مارنا اس کی ایسی عادت ہے جس سے سارے اردو بلاگرز سوائے ٢-٣ بلاگرز کے سب پریشان ہیں. میں نے اس بارے میں مزید جاننے کے لئے ڈاکٹرعنیقہ ناز صاحبہ سے جو خیر سے "ادارہ تحفظ جنگلی حیاتیات " کی ریجنل ڈاریکٹر بھی ہیں ،رابطہ کیا تو انہوں نے اس کا سبب حکیم الامت جناب الطاف حسین لندن والے کے دوا خانہ کی مشہور زمانہ قبض کشا "نظریاتی " کا ضرورت سے زیادہ استعمال بتایا ہے. انہوں نے خاص طور پر کچھ شرارتی بلاگرزجیسے وقار اعظم ، خواہ مخواہ جاپانی ، عمران اقبال اور خرّم ابن شبیر، جعفر اور ڈفر کے رویہ کی بھی شکایت کی کہ جن کی چھیڑ چھاڑ کے سبب بارہ سنگھا ہمہ وقت سینگ مارنے کے لئے تیار رہتا ہے.انکے خیال میں معاشرے میں موجود تنگ نظری ، تاریک خیالی اور مردوں کی موجودگی بارہ سنگھوں کی افزائش کے لئے شدید خطرہ ہیں . انکا خیال تھا کہ اگر معاشرے کو صرف مردوں سے ہی پاک کر دیا جائے تو تاریک خیالی اور دقیانوسیت سمیت ہر قسم کے معاشرتی امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے . یہ بات کہتے ھوۓ انکی انگلیاں اس طرح بھینچ گئیں جس طرح کسی کا گلا گھونٹنے کے لئے بھینچی جاتی ہیں اور سینڈل کو ایڑی پر ایسے حرکت دی جیسے کاکروچ کو جوتے سے مسلنے کے لئے دی جاتی ہے. یہ منظر دیکھہ کر میں کانپ گیا اور کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلا.کیونکہ اپنے تمام تر بھدے پن اور بد صورتی کے باوجود مجھے مرد کی کیٹگری میں ہی شامل کیا جاتا ہے .اس ضمن میں جانوروں کی نفسیات کے ماہر قبلہ عثمان صاحب کینیڈا والے کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ بری صحبت اور ہڈ حرامی کا نتیجہ ہے.انہوں نے کمپوٹر اسکرین سے نظر ہٹائے بغیر گوروں کی مثال دیتے ہوے فرمایا کہ کس طرح چالاکی سے گوروں نے وہاں کے مقامی بارہ سنگھوں کو کام پر لگایا ہوا ہے. سارا دن برف پر وزن کے ساتھہ دوڑانے کی وجہ سے انکے بارہ سنگھوں میں سینگ مارنا تو دور کی بات چارے پر منہ مارنے کی بھی ہمت باقی نہیں رہتی .حتی کے کہانیوں تک میں بھی مقامی بارہ سنگھوں کو کام پر لگایا ہوا ہے . گفتگو کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ کسی خاتون بلاگر نے کوئی نئی پوسٹ شایع کی اور قبلہ ہم سے معذرت طلب کے بغیر بارے خشوع اور خضوع کے ساتھہ تبصرہ لکھنے بیٹھہ گئے. جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ پریشان کیا وہ بارہ سنگھا کی سلامتی تھی. کراچی جیسے شہر میں جہاں چمڑی کے لئے چمڑیاں ادھیڑ دی جاتی ہیں بغیر حفاظت اور محافظوں کے کھلے عام پھرنا خاصا تشویشناک امر ہے. ہماری تشویش پر بھائی لوگ خوب ہنسے اور کہنے لگے کہ یہ بارہ سنگھا سعودی عرب سے آپریٹ کرتا ہے کراچی میں اسکی موجودگی مجازی ہے حقیقی نہیں اور حقیقی والوں سے اسے خاص طورپرلندن واسطے کا بیر ہے. حقیقی والوں کے خوف سے اس نے برطانوی حکّام سے سیاسی پناہ کی درخواست کی. جسے سن کر وہ پہلے تو وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے مگر جب بارہ سنگھا نے اپنے سینگوں کی افادیت کا عملی مظاہرہ کیا تو وہ خود پناہ کی تلاش میں بھاگنے لگے.جب یہ بات سفارتی حلقوں میں مشہور ہوئی تو ترس کھا کر نامور عرب شیخ ڈکربکر بخاخ اس شرط پر سعودیہ لے آئے کہ وہ سعودیہ میں کسی کو سینگ نہیں مارے گا اور بدلہ میں اسے قصابوں اور چھریوں سے ایک میل کی دوری پر رکھا جائے گا.
ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی طرح بارہ سنگھا کو سینگ مارنے سے روکا جائے اور جنگلی حیاتیات کو جنگل تک محدود کیا جائے . آگے الله مالک ہے یہاں نہیں تو آخرت میں مظلومین کو صبر کا پھل عمدہ اور بے حد لذیذ تکوں کی صورت میں ملے گا ..انشا الله

Saturday, February 26, 2011

فتنوں کی بارش

   مائنڈ کنٹرول کی لئے ٹی وی کا استعمال اب ایک سائنس بن چکی ہے اور ٹی وی ایک نہایت طاقتور آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے. اس کے شعوری اثرات پر لوگ اکثر لکھتے ہیں مگر غیر شعوری یا لا شعوری اثرات پر ہمارے یہاں بہت کم لکھا گیا ہے حالانکہ اس پر مغرب میں نہایت عمدہ تحقیق ہو رہی ہے. نت نئے طریقے استعمال ہو رہے ہیں. بہت زیادہ تجربات (مجرمانہ یا غیر مجرمانہ ) ہو چکے ہیں.
ہم سب یہ جانتے ہیں کہ انڈین ڈرامے کی prime audience انڈین نہیں ہیں یا بہتر طور پر آپ یوں کہ سکتے ہیں کہ انڈین ڈرامے انڈین کلچر کو بڑھاوا دینے کی نیت سے بنائے جاتے ہیں. ایک خاص قسم کا گیٹ اپ ، لباس ، منگل سوتر، سیندور، ساڑھی اور اسکے ساتھ ساتھ  characterization جس میں  ایک بھرا پرا خاندان جس میں ساس بہویں ، نندیں ،دیورانیاں ، جیٹھنیاں، بہت سارے کزنز اور تین نسلیں ایک ساتھ رہ رہے ہوں، کی جاتی ہے. یہ انڈیا کہ شہری علاقوں کا کلچر نہیں ہے بلکہ زیادہ مناسب ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ آج کل کی دنیا میں یہ کسی بھی شہر کا کلچر نہیں. اس کا مقصد سواۓ ایک خاص قسم کے پروپگنڈے اور ایک مخصوص قسم کے متوسط طبقے کے ذہن کی توجہ کھینچنے کے اور کچھ نہیں ...اور ہمارا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اس میں بہت کامیاب ہیں. انڈین ڈرامے نے پاکستان کے متوسط طبقے کی عورتوں اور مردوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے. ٥٠٠٠ کروڑ کی مالک ہونے کے باوجود میڈم ہر وقت  ایک typical ہندوستانی گیٹ اپ میں رہتی ہیں . کچن میں کھانا بنا رہی ہوتی ہیں اور دروازہ بھی خود ہی جا کر کھولتی ہیں.وجہ صرف یہی ہے کہ متوسط طبقہ کی ناظر خواتین کہیں اسکے مغربی اسٹائل گیٹ اپ کی وجہ سے ذہنی طور پر اس کردار کو مسترد نہ کردے یا یوں کہئے کہ محض ڈرامہ سمجھ کر دیکھتی نہ رہے. آپ شعوری طور پر چاہے کتنا ہی اس ڈرامہ کا ادراک کریں مگر آپکا لاشعور، کردار سے اپنی مماثلت ڈھونڈھ لیتا ہے اور اس کردار کو یوں کہیں کہ گود لے لیتا ہے. یہی وجہ ہے کہ چاہے آپ کہیں بھی ہوں اور کچھ بھی کر رہے ہوں جب ڈرامہ کا ٹائم آتا ہے تو آپ پر بیچینی طاری ہوجاتی ہے اور وقت مقرر پر آپ ٹی وی کے آگے آجاتے ہیں. سونے پہ سہاگہ کہانی کی قلابازیاں آپ کو اپنی گرفت میں رکھتی ہیں. ہر ٥٠ اقساط کے بعد کہانی ایک نیا ٹرن لیتی ہے . گرہستن عورت مافیا باس بن جاتی ہے، مرے ہوے لوگ زندہ ہو کر آجاتے ہیں ، چولھا ہندی کرنے والی عورت جیل پہنچ جاتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ حقیقی زندگی میں بہویں خود ساس نہیں بن جاتیں.
پھر ڈرامہ سے  کچھ پیغامات مستقل ملتے رہتے ہیں یعنی کہ تمہاری ماں تمہاری دشمن اور تمہاری بیوی یا محبوبہ تمہاری سب سے زیادہ خیر خواہ . بھائی جائیداد کی وجہ سے دشمن اور دوست تمہارا ہمدرد ، خونی رشتوں میں چالبازیاں وغیرہ اسکے ساتھہ ساتھہ ہر دوسرے تیسرے سین میں پوجا ، ہندو تہواروں کی بےوجہ اور ضرورت سے زیادہ تشہیر اور پروموشن.
(
حالانکہ ہمارے یہاں اس کے بر عکس ہے ..ہمارے یہاں داڑھی والا ، نمازی اور دیندار قابل مذمت ہے . اور ہر وہ لڑکی جو مشرقی روایت اور معاشرتی پہ بندیوں کی باغی ہے وہ دراصل ایک حقیقی ہیروئن ہے.( جیو ، ہم اور انڈس ٹی وی اس کام میں سب سے آگے ہیں)
اس نفسیاتی اور تہذیبی بمبارٹمنٹ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ کم از کم آپکو اپنے دین، تہذیب اور معاشرتی روایات سے disoriented ضرور کردیتی ہے. نا پختہ اذہان پر اس چیز کا اثر بہت تباہ کن نکل سکتا ہے. اس کے اثرات یقینی اور دیکھے جاسکتے ہیں. منگل سوتر ، ماتھے پر بندیا اور مانگ میں سیندور اب کہیں کہیں نظر آجاتا ہے. زبان پر اس کے اثرات بہت نمایاں ہیں. بلے باز(بیٹسمین ) ،  لینا دینا (تعلق)، چرچا (بحث) اور ان جیسے کی الفاظ ہمارے یہاں کی مخصوص اردو میں آچکے ہیں. (یہاں موضوع زبان کا ارتقا نہیں بلکہ ٹی وی کے اثرات ہیں )....نفسیاتی طور پر اس کے بارے بھیانک نتائج نکلتے ہیں. یہ نا پختہ ذہن کے حقیقت اور فینٹسی میں فرق کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے. یہ عدم توازن معاشرتی امراض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے.طلاق اور جرائم کی شرح میں بے تحاشا اضافہ اس کا بنیادی نتیجہ ہے . حالیہ کچھ سالوں میں جرائم نے ایک وبائی مرض کی صورت لے لی ہے اور دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ وہ لوگ جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں جو کہ قطعی طور پر مجرمانہ ذہن یا مجرمانہ نفسیات کے حامل نہیں ہیں. طلاق کی شرح میں خطرناک اضافے کی وجہ بھی بنیادی طور پر ایک خیالی اور ڈرامہ کی دنیا کا لائف اسٹائل ہے جہاں ایک امیر اور ہینڈسم لڑکا ، لڑکی سے شدید محبت کرتا ہے. اس یوٹوپیا میں کسی بھی چیز کی  کوئی کمی نہیں. یہ خیالی دنیا جب حقیقت میں نہیں ملتی تو یقینی طور پرتلخیوں اور ناراضگیوں کو جنم دیتی ہے جس کا انجام جرائم یا طلاق کی صورت میں نکلتا ہے. اگر آپ کا کسی ایسے وکیل سے ملاقات ہو جو کہ طلاق کے مقدمات لڑتا ہو تو آپ خود اسکی وجہ اس وکیل سے معلوم کر سکتے ہیں. آپ غور کریں تو میڈیا درحقیقت انسان کی خیالی جنت بنانے اور حقیقتوں کو نذر انداز کرکے قیاسات پر بھروسہ کرنے کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہا ہے. اشتہارات میں عورتوں اور بچوں کا بے تحاشا استعمال اسی کمزوری کی وجہ سے کیا جاتا ہے. اور ہماری دجالی دنیا میں اس تکنیک کو منافع کمانے کے ساتھہ ساتھہ عوام کا ایک خاص قسم کا ذہن بنانے کا کام بھی لیا جاتا ہے. اسی وجہ سے ایک امریکی مفکر نے کہا تھا کہ "کسی ملک میں میکڈونلڈ کی برانچ کھلنے کا مطلب یہ کہ سرمایا دارانہ سوچ نے اس جگہ قدم رکھہ دیا ہے"
یہ وہ شعوری نتائج ہیں جنہیں کوئی بھی شخص محسوس کر سکتا ہے . بد قسمتی سے ہمارے یہاں اس حوالے سے کوئی حقیقی تحقیقی کام نہیں ہو رہا ہے. آپ پاکستان  میں PhD  کے موضوعات دیکھیں تو آپکو شاید ہی کوئی نیا موضوع اور نئی بات ملے.
انسانی ذہن کے لاشعور کو غیر شعوری پیغامات کے ذریے سے  کرپٹ کرنے میں میڈیا کے کردار پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے. اور بہت سارے ذرائع اس کام کے لئے استعمال کے جا رہے ہیں. اس حربے کی ابتدا انسانی ذہن کے بارے میں کچھ پیچیدہ حقائق  کی دریافت کے بعد ہوئی .جس کا لب لباب یہ ہے کہ  انسانی لا شعور، شعور سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور وہ ان چیزوں کو سن ، سونگھ ، چکھہ ، دیکھ رہا ہوتا ہے جو شعور کے ادراک سے بغیر شناخت ہوے گزر جاتی ہیں . اسی دریافت کو بنیاد بنا کریہ حربہ ایجاد کیا گیا کہ انسان کو اسکے  شعوری ادراک سے ماورا کچھ پیغامات دے کر کچھ خاص قسم کے نتائج حاصل کیے جائیں. وہ پیغامات جنکا انسان کی شخصیت پر لازمی اثر پڑتا ہے. جیسے کہ :
١) Binaural tones : انسانی کان ١٥- ١٥٠٠٠ Hz تک کی آواز سن سکتا ہے یعنی ١٥ Hz سے اوپر اور ١٥٠٠٠ Hz سے نیچے. اب اگر آپ کسی tape یا میڈیا فائل پر نغمہ اس طرح سے ریکارڈ کریں کہ کہ ایک message ٨ Hz پر اسی tape یا میڈیا فائل پر ریکارڈ کیا گیا ہو تو آپکا شعور اگرچہ گنا سنے گا مگر لاشعور اس خفیہ پیغام کو دی کوڈ کرکے ایک ایہم اطلاع  کے طور پر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیگا. یہ طریقہ مغرب میں علاج کے لئے اور بری عادتوں کو چھڑانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے. اگر آپ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں تو sub laminal messaging  ایک نہایت عمدہ اور آسان طریقہ ہے اس عادت سے چھٹکارے کا .غلط ہاتھوں میں تکنیک نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے .
٢) Reverse messaging : اس طریقہ میں الفاظ کا ایک خاص ترتیب سے استعمال کیا جاتا ہے . جیسے RED  RUM ( سرخ شراب ) جسکو اگر الٹا کریں تو یہ MURDER ( قتل/ کرو ) بن جاتا ہے . دماغ اس لفظ کو دی کوڈ کرتا ہے اور الٹا پڑھتا ہے اور اس کو تجویز کے طور پر قبول کر لیتا ہے .
٣ ) رنگوں کا ایک خاص طریقے سے استعمال : رنگوں کا انسانی نفسیات پر اثر ایک مشہور سائنس بن چکا ہے. سرخ رنگ انسان کی طبیعت میں جارحانہ پن پیدا کرتا ہے ..اور بھوک کو بڑھاتا ہے . تقریباً یہی کام زرد رنگ کا بھی ہے اور اگر آپ غور کریں تو فاسٹ فوڈ کی تشہیر میں یہی دو رنگ زیادہ استعمال ہوتے ہیں . خبروں کے چینلز کو دیکھیں تو ایک چینلز کی ایک  بڑی اکثریت کے نیوز روم   آپکو jet  blue کلر میں نظر آئیں گے. یہ رنگ بھروسہ اور طاقت کا مظہر ہے.
٤)   
Silent Sound Spread Spectrum اس ٹکنولوجی کی ایجاد  Dr Oliver Lowery نے کی ہے. اس میں ٹی وی یا ریڈیو کی فریکونسی کو اسطرح سے ترتیب دیا جاتا کہ یہ ماحول میں موجود ریڈیائی لہروں میں ایک خاص ترتیب سے ارتعاش پیدا  کرتی ہیں جو انسانی جذبات میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں. ٹی وی پروگرام میں دین کی غلط تصویر کشی کر کے آپکے نفرت والے جذبات میں عروج لانا اس ٹیکنالوجی کے بائیں ہاتھہ کا کھیل ہے.
٥ )
flash messaging : ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ایک سیکنڈ کا ویڈیو کلپ ٤٥ تصاویر کا مجموعہ ہوتا ہے. ان ٤٥ میں سے اگر ایک تصویر کو تبدیل کردیا جائے اور اس تصویر کے ذریے کوئی پیغام دیا جاۓ تو وہ شعور کی گرفت میں نہیں آئے گا. لیکن طاقتور لاشعور میں موجود ریسیور اسکو اس کی اصل حالت میں قبول کرے گا اور محفوظ کر لے گا .
٦)
HIDDEN PICTURE MESSAGING: پوشیدہ تصویروں کو ڈھونڈھنا بچپن سے میرا پسندیدہ کھیل رہا ہے .کافی محنت کرنی پڑتی ہے  مگر یقین کریں لاشعور ان تصاویر کو اسی طرح دیکھتا ہے جیسے شعور ظاہری تصاویر کو دیکھتا ہے. یہ تصاویر اسے نہایت صف اور واضح نظر آتی ہے اور لا شعور کے نہاں خانوں میں ایک پیغام کی صورت محفوظ  کر لی جاتی ہے .
یہ صرف چند دجالی حربے ہیں جو ٹی وی کے ذريعے جو انسانی نفسیات اور اسکے سوچنے کے انداز پر اثر انداز ہوتے ہیں . دماغ کو کنٹرول کرنے کے اور بھی کی طریقے ہیں جو بشرط زندگی آپ سے شئیر کروں گا .
اب آپ مندرجہ ذیل میں نقل کی گئی صحیح مسلم کی حدیث کو پڑھیے.  
 سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل ( یا قلعہ ) پر چڑھے پھر فرمایا : کیا جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، تم بھی دیکھ رہے ہو؟ بیشک میں تمہارے گھروں میں فتنوں کی جگہیں اس طرح دیکھتا ہوں جیسے بارش کے گرنے کی جگہوں کو۔
( صحیح مسلم حدیث ١٩٨٩)
اس مضمون سے اس حدیث کو سمجھنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے. میرا خیال ہی نہیں بلکہ یقین بھی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہہ وسلم نے اس حدیث میں انہی دجالی فتنوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو بیخبری میں انسان کے دین اور ایمان پر اس طرح شبخون مارتے ہیں کہ انسان کو پتا ہی نہیں چلتا .. الله تعالیٰ ہمیں ان فتنوں کو سمجھنے اور ان سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین