” شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں۔ مگر اسے اب رکنا چاہئیے، شہادت سے پہلے مقام بصیرت پہ۔ “
اس جملے کی بیساختگی کی تعریف نا کرنا ایک بڑی نا انصافی ہوگی . یہ جملہ پڑھ کر میری ہنسی نکل گئی اور میں بڑا محظوظ ہوا.” ایک اچھا لکھنے والا چاہے تو اپنے قلم سے تلوار کا کام لے سکتا ہے “ یہ جملہ یا اس سے ملتی جلتی بات آپ نے یقیناً سنی ہو گی. مگر لکھنے والا اپنے قلم سے ناک آوٹ پنچ بھی لگا سکتا ہے یہ پہلی بار دیکھا. ابھی جملے کے تیکھے پن سے لطف لے ہی رہا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہو.
مسلمان کے ساتھ ( چاہے وہ میرا جیسا ناکارہ ہی کیوں نہ ہو ) ایک مسئلہ اسکے اندر لگے سائیکلوجیکل بیریرز ہوتے ہیں جو دین سے متعلق کسی بھی استہزا اور تمسخر سے اسے لطف اندوز نہیں ہونے دیتے.میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جملے کا وہ حصّہ جس میں کہا گیا ہے کہ ” مگر اسے اب رک جانا چاہیے “ میرے دماغ میں جیسے کسی بازگشت کی طرح گونجنے لگا. میں نے خود سے یہ سوال کیا کہ کیا واقعی جہاد اور شہدا کے قافلوں کا رک جانا ممکن ہے؟ کہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے فرمایا کہ:
میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر قیامت تک غالب رہے گی اور جہاد کرتی رہے گی۔( صحیح مسلم جلد سوم - حدیث ٤٥٧ )
یار لوگ بھلے سے اس بات پر خفا ہوں مگر میں تو عنیقہ ناز صاحبہ کے اس مشورے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ مقام بصیرت پر اس قافلے کو ضرور رک جانا چاہیے. اس لئے کہ یہاں کچھ ہنسی اور دل لگی کا سامان بھی ہے. ایسے ہی بصیرت افروزمقام پر آج میں رکا جب صبح میں نے روزنامہ جنگ میں قائد تحریک ، حکمت کے آفتاب، جراحت کے ماہتاب بلکہ چندے آفتاب ،چندے ماہتاب ( خبرداراگر چندے کو چندہ پڑھا گیا . مجھے معلوم ہے کہ حاسدین چندے کو رسید والا چندہ ہی پڑھیں گے کہ جس کے نا دینے پر خیریت مشکوک ہو جاتی ہے ) ، ماہر امراض جنسیہ و خبیثہ حضرت علامہ الطاف حسین لندن والے کا بصیرت افروز و بصیرت انگیز کالم پڑھا. جس میں حضرت الطاف حسین نے فن طب و جراحت پر اپنی بےمثال معلومات کے دریا بہا دیے اور قوم کو لاحق مہلک امراض کی تشخیص فرمائی ہے.
اپنی تشخیص میں حکیم الامّت نے قوم کی اور خاص طور ملکی اداروں کی تشخیص کرتے ہوے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں گنگرین اور ایڈز جیسی مہلک بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں. نا صرف تشخیص فرمائی ہے بلکہ اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں ان امراض پر روشنی بھی ڈالی ہے. اس کالم کی تفصیلات بھی نہایت بصیرت افروز تھیں.انتہائی دلسوزی, دلگدازی اور خلوص سے تشخیص فرماتے ہوۓ کہ جس کا اظہار تصویر سے بھی ہو رہا ہے، حکیم الامّت نے فرمایا کہ” ناسور ( gangrene ) خشک اور ناسور کی صورت میں جسم کے کسی بھی حصّے پر اثر اندازہو سکتا ہے “.حیرت کا ایک شدید جھٹکا دھیرے سے لگا. اور میں نے دل ہی دل میں اپنے میڈیکل کالج، پروفیسرز اور میڈیکل کی کتابوں کو خوب صلواتیں سنائیں جنہوں نے جان بوجھ کر طلبا کو غلط معلومات فراہم کیں اور ناسور کو fistula بتایا اور gangrene کا ترجمہ فساد نسیج یعنی بافتوں کی سڑن بتایا. اب ظاہر ہے حکیم الامّت کی بات تو غلط ہو نہیں سکتی لہٰذا مجھے اپنے ذہن میں موجود ناسور اور فساد نسیج کے معنی کو بدلنا پڑا. میں نے یہ مستحکم ارادہ کر لیا کہ میں اس "ناسوری“ غلطی پر آواز اٹھاؤں گا.میرا مطالبہ ہے کہ اس غلطی کو بزور طاقت درست کیا جائے. بلکہ میرا تو یہ کہنا ہے کہ آج سے ہی میڈیکل کالجز میں اس غلطی کو سدھارنے کا کام کیا جائے. ٹی وی مباحثوں میں اس غلطی کو واضح کیا جائے، طلبا کو بتایا جائے اور نصاب کو تبدیلی کے لئے بھیجا جائے اور تمام پروفیسرز حضرات کو خاص تنبیہ کر دی جائے. اور جو پروفیسرز اس غلطی کو اپنی کلاس میں دہرائیں انکو نائن زیرو یا قریبی ” درستگی کے مراکز “ میں بلوا کر انکی ” کلاس “ لی جائے.
یہ بات سن کر یار لوگ بہت ہنسے اور کہنے لگے کہ ٦٠% آرمی سے جنگ لڑنا تو دور کی بات ان کو کم سے کم نوکریوں سے ہی برخاست کر دیا گیا تو ملکی دفاع کا کیا ہوگا. کیونکہ اگر ٦٠% کو ناسور مان بھی لیا جائے تو کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ یہ حصّہ بھی ایک نظم کے تابع ہے اور احکامات کی روگردانی نہیں کرتا ؟. ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ” یار تم تو ڈاکٹر ہو تم بتاؤ کہ کیا کوئی بھی جاندار اپنے جسم کے ٦٠ % حصّہ کے بغیر جی سکتا ہے؟ میں یہ سوال سن کر گہری سوچ میں پڑ گیا تبھی مجھ پر وجدان کا لمحہ نازل ہوا اور میں چلاتا ہوا بولا ” یوریکا !!! میں نے پا لیا “ دوست نے افسوس اور رحم بھری نظروں سے دیکھا اور اور فضا میں ناک سکوڑ کر کچھ سونگھنے کی کوشش کی. جس پر مجھے غصّہ آگیا کہ عجیب کوڑھ مغز انسان ہے بجائے سوال کرنے کہ مجھے ٹن فلائٹ کا مسافر سمجھ رہا ہے. میں نے کہا ” ابے گدھے! یہ پوچھ کہ میں نے کیا پایا ہے “ اس نے ملامت بھری نظروں سے دیکھا اور چاروں انگلیوں کو موڑ کر، انگوٹھا باہر کی طرف نکال کر منہ کی طرف لے جاتے ہوۓ اشارتاً پوچھا یہ اشارہ نہایت واہیات تھا لیکن مجھے مطلب سمجھنے میں بالکل دیر نہیں لگی کیونکہ یہ ہمارے شہر کے دیسی ٹھرا پینے والوں کا مخصوص اشارہ ہے.اس اشارہ کو دیکھہ کر میرا تو فیوز ہی اڑ گیا اور قریب تھا کہ میں اسکے سر پر قریب ہی پڑا گلدان مار کر اسکے سر میں موجود نا سور یعنی اسکے بھیجے کو باہر نکال دیتا ، اسے حالت کی سنگینی کا احساس ہو گیا اور بڑی معصوم صورت بنا کر پوچھنے لگا کہ ” آپ نے کیا پایا ہے “ تب جا کر میرا غصّہ ٹھنڈا ہوا اور میں نے وضاحت کی کہ ” دیکھ بے....ایم کیو ایم کوئی مولویوں کی جماعت تو ہے نہیں. سارے لکھے لکھے ( پڑھے لکھے کا متبادل ) لوگ ہوتے ہیں.“ جس پر میرا دوست الجھی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھتا ہوا بولا ” تو ؟.... “ یہ سوال سن کر پھر میرا پارہ چڑھ گیا ” ابے تو کے بچے ..... لکھے لکھے لوگ مولویوں کی طرح نہیں سوچتے. ایم کیو ایم میں سارے لوگ عنیقہ ناز صاحبہ کی طرح ایوالوشن پر یقین رکھتے ہیں. اور ارتقا کے نظریے میں چالیس فیصد تو کیا ..کسی چیز کا نا ہونا بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے “ یہ بات سن کر دوست نے پھر مجھ پر رحم بھری نگاہ ڈالی اور سر کو اسطرح سے ہلانے لگا کہ جیسے اسے کسی بات کا یقین آگیا ہو. اور افسوس بھری نگاہ سے میری طرف ہاتھہ ہلاتے ہوۓ کمرے سے باہر چلا گیا. اسے ہاتھ ہلاتے دیکھہ کر میں نے بھی بے اختیاری طور پر ہاتھہ ہلادیا مگر جب اسے کمرے سے باہر جاتا دیکھا تو یکا یک توہین کا احساس ہوا تب میں نے ہاتھ کی ہتھیلی کو اپنے چہرے کی طرف موڑا اور سوائے درمیانی انگلی کے باقی سب انگلیوں کو انگوٹھے سمیت ہتھیلی میں اندر کی جانب بند کر دیا. ( شدید غصّہ کی حالت میں بعض اوقات جب میرا بس نہیں چلتا تو میں اس اشارے سے اپنا غصّہ نکال لیتا ہوں )













